Kolkata

ساوتھ پوائنٹ ایجوکیشن سوسائٹی کے فنڈز میں خورد برد کا الزام

ساوتھ پوائنٹ ایجوکیشن سوسائٹی کے فنڈز میں خورد برد کا الزام

ساوتھ پوائنٹ ایجوکیشن سوسائٹی کے فنڈز میں خورد برد کے معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسکول جیسے معروف تعلیمی ادارے کے فنڈز میں بدعنوانی کے اس واقعے نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ای ڈی کے کولکتہ زونل آفس نے کرشنا دامانی کی 18 کروڑ 50 لاکھ روپے کی جائیداد کو 'ابتدائی طور پر ضبط' کر لیا ہے۔یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت کی گئی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کرشنا دامانی انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ اسکول کے پیسے غبن کرتے تھے: وہ اپنی کمپنی کے لوگوں کو اسکول میں بھرتی کرتے تھے۔ حقیقت میں کم ملازمین سے کام لے کر کاغذات میں زیادہ ملازمین دکھائے جاتے تھے۔ ان اضافی ملازمین کے نام پر جاری ہونے والی تنخواہیں وہ خود ہضم کر لیتے تھے۔غبن کی گئی یہ رقم غیر قانونی طور پر ان کی اپنی کمپنی اور قریبی افراد کے بینک کھاتوں میں منتقل کر دی جاتی تھی۔اپریل 2020 سے جون 2023 کے درمیان کم از کم 10 کروڑ روپے (ای ڈی کے مطابق 20 کروڑ روپے تک ہو سکتے ہیں) کے غبن کا الزام ہے۔ 2024 کے آغاز میں اسکول حکام نے ہی کرشنا کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ جس کی بنیاد پر فروری میں کولکتہ پولیس کے ہیئر اسٹریٹ تھانے نے انہیں گرفتار کیا تھا۔ چونکہ اس میں بھاری رقم کی غیر قانونی لین دین شامل تھی، اس لیے بعد میں ای ڈی نے اس کیس کی تحقیقات سنبھال لیں۔ کرشنا دامانی ساوتھ پوائنٹ کے ٹرسٹی بورڈ کے بااثر رکن تھے۔ ان جیسے عہدیدار کے خلاف ایسے الزامات نے اسکول کی ساکھ اور انتظامی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ای ڈی اب اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس بدعنوانی کے جال کے تانے بانے مزید دور تک پھیلے ہوئے ہیں یا نہیں۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments