Kolkata

سونارپور میں مقتول ترنمول کارکن کے گھر جاتے وقت ابھیشیک بنرجی پر حملہ، مظاہرین نے نعرے بازی کی

سونارپور میں مقتول ترنمول کارکن کے گھر جاتے وقت ابھیشیک بنرجی پر حملہ، مظاہرین نے نعرے بازی کی

کولکاتہ، 30 مئی : مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے سونارپور علاقے میں ہفتہ کے روز انتخابی تشدد میں ہلاک ہونے والے ترنمول کانگریس کارکن کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری ابھشیک بنرجی پر مبینہ طور پر مظاہرین نے حملہ کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ابھیشیک بنرجی مقتول ترنمول کارکن سنجو کرماکر کے گھر جا رہے تھے جن کی اسمبلی انتخابات کے بعد پیش آنے والے تشدد کے دوران موت ہو گئی تھی۔ راستے میں جاری احتجاج اور مظاہروں کے باعث انہوں نے چار پہیوں والی گاڑی کے بجائے موٹر سائیکل کے ذریعے علاقے میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ترنمول کانگریس کے رہنما¶ں کے مطابق جیسے ہی وہ سنجو کرماکر کی رہائش گاہ کے قریب پہنچے ، مظاہرین نے ان کے ساتھ دھکا مکی کی، ان پر انڈے اور جوتے پھینکے اور مبینہ طور پر جسمانی حملہ بھی کیا۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران ان کی سفید قمیص کے بٹن ٹوٹ گئے جبکہ سر اور گردن پر بھی ضرب لگنے کی اطلاعات ہیں۔ کشیدہ حالات کے پیشِ نظر انہیں اپنی حفاظت کے لیے کرکٹ ہیلمٹ پہنے ہوئے دیکھا گیا۔ مظاہرین نے ان کے خلاف 'چور، چور' اور 'گو بیک' جیسے نعرے بھی لگائے ۔ ذرائع کے مطابق ابھیشیک بنرجی کی آمد سے قبل ہی مختلف مقامات پر لوگ سیاہ جھنڈے اور انڈے لے کر جمع ہو گئے تھے اور ان کے علاقے میں داخل ہوتے ہی متعدد افراد نے ان کا پیچھا کیا اور احتجاج کیا۔ تاہم شدید مخالفت اور احتجاج کے باوجود ابھیشیک بنرجی مقتول کارکن کے گھر پہنچنے میں کامیاب رہے اور انہوں نے سوگوار خاندان سے ملاقات کی۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے دورے کی پیشگی اطلاع ضلعی انتظامیہ کو دی گئی تھی، اس کے باوجود موقع پر مناسب پولیس سکیورٹی موجود نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، ''میرا سر صرف اس لیے محفوظ رہا کیونکہ میں نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا۔ میرا چشمہ ٹوٹ گیا ہے ۔ میں یہاں سے چلا بھی جا¶ں تو خدشہ ہے کہ یہ عناصر سنجو کرماکر کے بزرگ والدین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔'' ابھیشیک بنرجی نے واضح کیا کہ وہ کسی دبا¶ کے تحت علاقے کو نہیں چھوڑیں گے اور مقتول کارکن کے خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ اور مغربی بنگال کے گورنر سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ متاثرہ خاندان کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور کشیدہ حالات کے باوجود وہاں پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں جان بوجھ کر مشتعل مظاہرین کے سامنے غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments