Kolkata

محض ایک لاکھ 92ہزار ووٹوںکی تبدیلی سے ترنمول کی 58سیٹیں کم ہوجائیں گی

محض ایک لاکھ 92ہزار ووٹوںکی تبدیلی سے ترنمول کی 58سیٹیں کم ہوجائیں گی

بی جے پی کی ایک اندرونی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ محض 1 لاکھ 92 ہزار ووٹوں کی تبدیلی سے ترنمول کانگریس کی 58 نشستیں کم ہو سکتی ہیں۔ جہاں عوامی سطح پر دونوں جماعتوں کے کل ووٹوں کے فرق پر بحث ہو رہی ہے، وہیں بی جے پی کے 'وار روم' میں اب اس مخصوص اعداد و شمار پر توجہ دی جا رہی ہے۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق، جن 58 اسمبلی نشستوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہاں 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ترنمول اور بی جے پی کے درمیان کل ووٹوں کا فرق 3 لاکھ 80 ہزار سے کچھ زیادہ تھا۔ اس حساب سے اگر ان حلقوں میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 92 ہزار ووٹ ترنمول سے بی جے پی کی طرف منتقل ہو جائیں، تو نتائج مکمل طور پر بدل جائیں گے۔ یعنی ہر اسمبلی حلقے میں اوسطاً 3,310 ووٹوں کو براہ راست بی جے پی کے حق میں کرنا ہوگا۔ اگرچہ بی جے پی قائدین تسلیم کرتے ہیں کہ ووٹوں کی یہ منتقلی اتنی آسان نہیں ہے، کیونکہ یہ علاقے ترنمول کے مضبوط گڑھ مانے جاتے ہیں، لیکن ووٹر لسٹوں کی حالیہ جانچ اور الیکشن کمیشن کی سختی کے بعد بی جے پی پرامید ہے کہ ترنمول کی یہ برتری برقرار نہیں رہے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے جو تقریباً 91 لاکھ نام نکالے گئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر ترنمول کے ووٹ بینک کا حصہ تھے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان ناموں کے نکل جانے سے ترنمول کے ووٹوں میں بڑی کمی آئے گی، جس سے بی جے پی کے لیے ان 58 نشستوں پر مقابلہ جیتنا آسان ہو جائے گا۔ یہ نشستیں زیادہ تر مالدہ، مرشد آباد، ہاوڑہ، ہوغلی، شمالی و جنوبی 24 پرگنہ اور کولکتہ جیسے اضلاع میں واقع ہیں، جہاں 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول نے بہترین کارکردگی دکھائی تھی۔ بی جے پی کی پیشہ ور ٹیموں نے اب ان علاقوں میں ترنمول کی کمزوریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments