Kolkata

ایس آئی آر کو لے کر ریاست دوبارہ سپریم کورٹ میں، چیف جسٹس کے بنچ کا مداخلت سے انکار

ایس آئی آر کو لے کر ریاست دوبارہ سپریم کورٹ میں، چیف جسٹس کے بنچ کا مداخلت سے انکار

کولکاتا27فروری :ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرائی سے سروے کے حوالے سے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک بار پھر شکایت درج کرائی گئی، لیکن عدالتِ عظمیٰ نے اسے مسترد کر دیا۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے سخت لہجے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا، "پورے عمل کو روکنے کے لیے چھوٹے موٹے بہانے تلاش نہ کریں۔" جمعہ کو چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ کے سامنے ریاست کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ الیکشن کمیشن ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایس آئی آر دستاویزات کی تصدیق اور تصفیے کے کام میں شامل ججوں کو تربیت دے رہا ہے۔ ریاست کی اس شکایت پر بنچ کے رکن جسٹس جے مالیا باغچی نے جوابی سوال کیا کہ اگر الیکشن کمیشن تربیت نہیں دے گا، تو دستاویزات کی تصدیق اور تصفیے کے کام میں مصروف ججوں کو تربیت کون دے گا؟ واضح رہے کہ گزشتہ 24 فروری کو سپریم کورٹ نے وقت پر کام مکمل کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے جج لینے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ، ضرورت پڑنے پر متعلقہ ریاست کی ہائی کورٹ کی منظوری سے غیر ریاستی ججوں کے تقرر کا اختیار بھی کمیشن کو دیا تھا۔ جمعہ کو ریاست کی جانب سے نئی درخواست دائر کیے جانے کے باوجود سپریم کورٹ نے اس میں مداخلت کے امکان کو مسترد کر دیا۔مغربی بنگال کے ایس آئی آر کیس کے حوالے سے ریاست کے وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ ججوں کے لیے ایک تربیتی ماڈیول تیار کیا گیا ہے، جس میں کمیشن نے ہدایات دی ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ ان کا موقف تھا کہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی پورے عمل کے طریقہ کار کا تعین کریں گے۔

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments