Kolkata

ایس آئی آر کے دوران کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری برتھ سرٹیفیکٹ کی بھی جانچ ہوگی

ایس آئی آر کے دوران کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری برتھ سرٹیفیکٹ کی بھی جانچ ہوگی

ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ تمام پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹس کی دوبارہ تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاست میں سیاسی تبدیلی کے بعد اور وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے ہی سابقہ حکومت کے دور کے متعدد فیصلوں اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، یہ اسی کا ایک حصہ ہے۔ انتظامی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران گزشتہ سال نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں کولکتہ کارپوریشن میں ریکارڈ تعداد میں پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹس کی درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں۔ یہ الزام ہے کہ اس وقت کسی تفصیلی جانچ کے بغیر انتہائی عجلت میں بڑی تعداد میں سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے تھے۔ کولکتہ کارپوریشن کے محکمہ صحت کی جانب سے ان سرٹیفکیٹس کی دوبارہ جانچ پڑتال کے پیچھے جو اہم وجوہات ہیں۔ انتظامی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس وقت کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کولکتہ کے میئر فرہاد حکیم کو ہدایت دی تھی کہ درخواست گزاروں کی ضرورت کے مطابق جلد از جلد سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں۔ اس جلد بازی کی وجہ سے کئی سرٹیفکیٹس میں معلومات کی غلطیاں، تضادات یا بڑی خامیاں رہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نظرثانی کے عمل کے دوران جن پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹس کو ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا خارج کرنے کے لیے بنیادی قانونی دستاویز کے طور پر استعمال کیا گیا تھا، ان کی اسکریننگ کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے گی۔ اگرچہ آئندہ دسمبر تک کولکتہ میونسپل کارپوریشن کا بورڈ ترنمول کانگریس کے کنٹرول میں ہی رہے گا، لیکن موجودہ سیاسی صورتحال میں ریاستی حکومت کے اس سخت رویے اور دستاویزات کی دوبارہ تصدیق کے فیصلے نے کارپوریشن حکام کے اندر شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ انتظامیہ کے اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی جیسے حساس عمل میں کوئی فرضی یا ناقص سرکاری دستاویز تو استعمال نہیں کی گئی، اور سرٹیفکیٹس کے اجرائ کے نظام میں شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments