Kolkata

سکم سمیت شمالی بنگال پھر زلزلے سے لرز اٹھا، پانی کے ذخائر خشک ہونے کا خدشہ

سکم سمیت شمالی بنگال پھر زلزلے سے لرز اٹھا، پانی کے ذخائر خشک ہونے کا خدشہ

کولکاتا27فروری :گینگ ٹاک/سلی گوڑی: جمعرات کی صبح کا خوف ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ جمعہ کی علی الصبح ایک بار پھر سکم سمیت شمالی بنگال کے پہاڑی اور میدانی علاقے زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اٹھے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق، یہ جھٹکے صبح 4:10 بجے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔ اس زلزلے کا مرکز سکم کے شہر گینگ ٹاک سے تقریباً 24 کلومیٹر شمال-شمال مشرق میں 84 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ درمیانے درجے کا زلزلہ تھا۔ اس سے قبل جمعرات کی صبح بھی سکم اور شمالی بنگال میں جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جس کا مرکز گیالشنگ ضلع میں سطح زمین سے 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا اور شدت 4.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔ محققین کو خدشہ ہے کہ مسلسل آنے والے یہ زلزلے سکم، دارجلنگ اور کالمپونگ کے پہاڑی علاقوں میں بڑی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ قدرتی طور پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ زلزلوں کے لحاظ سے حساس ہمالیائی خطے میں زندگی کتنی محفوظ ہے؟ چوپڑا کالج کے پرنسپل اور جغرافیہ کے محقق مدھوسودن کرماکر کا کہنا ہے کہ "مسلسل جھٹکوں سے کنکریٹ کی عمارتوں کی ساختی بنیادیں کمزور ہو سکتی ہیں، بالخصوص کثیر المنزلہ عمارتوں اور پن بجلی (ہائیڈرو الیکٹرک) منصوبوں کی۔ اس کے علاوہ پہاڑی علاقوں میں پانی کے قدرتی ذرائع بھی خشک ہو سکتے ہیں۔"رپورٹس کے مطابق جمعرات کے زلزلے سے سکم میں دو اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی اور یونائیٹڈ سٹیٹس جیولوجیکل سروے کے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 میں سیسمک مانیٹرز نے ریاست سکم کے 300 کلومیٹر کے دائرے میں 4 یا اس سے زیادہ شدت کے 178 زلزلے ریکارڈ کیے ہیں۔

Source: PC- sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments