رات کے تقریباً 11 بج رہے تھے۔ چندر ناتھ رتھ کولکتہ میں اپنی مصروفیات مکمل کر کے مدھیم گرام میں واقع اپنے گھر کی طرف لوٹ رہے تھے۔ جیسے ہی ان کی اسکارپیو گاڑی دوہاریہ علاقے میں پہنچی، وہاں شوٹ آوٹ ہو گیا۔ کام تمام کرنے کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے، لیکن جائے وقوعہ پر کئی ایسے ثبوت چھوڑ گئے ہیں جن کی مدد سے تفتیش کار اس قتل کے پیچھے چھپے رازوں کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، کولکتہ سے روانہ ہوتے ہی چندر ناتھ کی گاڑی بدمعاشوں کے گروہ کی نظر میں تھی۔ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کا پیچھا کیا اور ان کے گھر کے بالکل قریب پہنچ کر انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ معلوم ہوا ہے کہ دوہاریہ علاقے میں ایک بریانی کی دکان کے سامنے جیسے ہی چندر ناتھ کی گاڑی پہنچی، ایک چھوٹی چار پہیہ گاڑی نے ان کی گاڑی کو اوور ٹیک کر کے سامنے راستہ روک دیا۔ مجبوراً ڈرائیور کو گاڑی کی رفتار کم کرنی پڑی۔ اسی لمحے موٹر سائیکل پر سوار بدمعاشوں نے گاڑی کے شیشے پر بندوق رکھ کر فائرنگ شروع کر دی۔ الزام ہے کہ کم از کم 10 راونڈ فائرنگ کی گئی، جس کے بعد ملزمان وہاں سے چمپت ہو گئے۔ تفتیش کاروں کی نظر علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج پر ہے۔ پولیس کے مطابق، اس واردات کو انجام دینے سے بہت پہلے سے حملہ آور علاقے میں گھوم رہے تھے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بدھ کی دوپہر دول تلا کے سہارا برج کے قریب حملہ آوروں کی گاڑی دیکھی گئی ہے۔ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ بدمعاش طویل عرصے سے چندر ناتھ کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ وہ کب کہاں جاتے تھے اور کس راستے سے گھر لوٹتے تھے، یہ سب بدمعاشوں کے علم میں تھا۔ طویل عرصے تک ریکی کر کے اس طرح صفائی سے قتل کرنے کے پیچھے کسی بڑے 'ماسٹر مائنڈ' کا ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس اس زاویے سے بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ قتل سپاری کلرز کے ذریعے کرایا گیا ہے۔ ریکی کے لیے استعمال ہونے والی چار پہیہ گاڑی جائے وقوعہ سے ہی برآمد کر لی گئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ "واردات کے بعد حملہ آور اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہو گئے۔" جب پولیس نے اس گاڑی کو ضبط کر کے اس کی نمبر پلیٹ چیک کی تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ اس گاڑی کے مالک کا نام جوزف ولیمز نکلا، جو سلی گوڑی کے ماٹی گاڑہ تھانہ علاقے کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ گاڑی کا چیسس نمبر تبدیل کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، جس موٹر سائیکل پر سوار ہو کر حملہ آور آئے تھے، اس پر نمبر پلیٹ ہی نہیں تھی۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے کارتوسوں کو دیکھ کر پولیس کو شبہ ہے کہ قتل کے لیے آسٹرین گلاک پستول استعمال کی گئی تھی۔ مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے لیے پولیس یشور روڈ سمیت آس پاس کے تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز کا معائنہ کر رہی ہے اور مقامی عینی شاہدین سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی