Kolkata

سالبنی تھانہ کی پولس کو ابھیشیک کے گھر سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا

سالبنی تھانہ کی پولس کو ابھیشیک کے گھر سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا

ابھیشیک بندوپادھیائے کے کالی گھاٹ والے گھر کے سامنے تقریباً پانچ گھنٹے تک شالیبنی تھانے کی پولیس موجود رہی۔ بڑی تعداد میں مرکزی فورس کو لے کر وہ صبح 3 بجے کے قریب پٹوا پاڑہ والے گھر کے سامنے پہنچ گئے۔ انہیں گھر کے باہر طویل انتظار کرنا پڑا۔ بعد میں تالا توڑ کر اندر داخل ہوئی پولیس۔ تلاشی تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔ تاہم ہفتہ کو ابھیشیک کے گھر سے کوئی چیز ضبط نہیں کی گئی۔ تری نول کانگریس کی راجیہ سبھا رکن ساگاریکا گھوش نے پولیس کی دستاویزات کو سوشل میڈیا پر شائع کرتے ہوئے اس تلاشی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے ‘سیاسی مقاصد سے تحریک یافتہ’ بھی قرار دیا ہے۔ ساگاریکا نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح 3 بجے کے قریب پولیس ابھیشیک کے گھر کے علاقے میں پہنچی۔ 5 بجے کے قریب تالا توڑنے کے لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ فورس کے ارکان کو بلایا گیا۔ صبح ساڑھے 6 بجے پولیس ابھیشیک کے گھر میں داخل ہوئی۔ تین منزل سے چھت تک مسلسل 90 منٹ تک تلاشی لی گئی۔ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 3 بجے سے 5 بجے تک مسلسل دو گھنٹے ابھیشیک کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں آوازیں دی گئیں۔ کالنگ بیل بھی بجائی گئی۔ لیکن کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔ ابھیشیک کے خاندان کی طرف سے پولیس کو کوئی تعاون نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے دروازہ توڑ کر اندر جانے کا فیصلہ کیا۔ شالیبنی تھانے کے ایک مقدمے میں ابھیشیک کے قریبی معاون سومتر رائے کو تلاش کرنے کے لیے پولیس کالی گھاٹ آئی تھی۔ ذرائع کے مطابق، کچھ عرصہ پہلے زمینی بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتار مدنی پور کے سابق ایم ایل اے سوجوئے ہاجرا سے پوچھ گچھ کے بعد سومتر کا نام سامنے آیا تھا۔ اس کے موبائل کا آخری ‘ٹاور لوکیشن’ ابھیشیک کے اس گھر کو ظاہر کر رہا تھا۔ اس لیے پولیس کا خیال تھا کہ سومتر وہاں چھپا ہے۔ تاہم وہ وہاں نہیں ملا۔ شالیبنی کے ساتھ ساتھ کالی گھاٹ تھانے کی پولیس بھی وہاں موجود تھی۔ باہر سے مرکزی فورس نے گھر کا گھیراو کر رکھا تھا۔ کسی بھی تلاشی کارروائی کے بعد پولیس اصول کے مطابق ضبط شدہ اشیائ کی فہرست تیار کرتی ہے۔ اس معاملے میں اس فہرست میں ضبط شدہ اشیائ کی جگہ ‘نیل’ (کچھ نہیں) لکھا ہے۔ یعنی کچھ بھی ضبط نہیں کیا گیا۔ تری نول کی راجیہ سبھا کی ڈپٹی لیڈر ساگاریکا نے پولیس کارروائی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: "کوئی ثبوت نہیں، کوئی غلط کام نہیں ہوا۔ کچھ نہیں ہوا! یہ محض سیاسی انتقام، دھمکی دینے کی کوشش اور ذہنی اذیت ہے۔ ‘آپریشن لوٹس’ کا نشانہ وہی رہنما بن رہے ہیں جو بی جے پی کے حکم کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔ حزب اختلاف کے ایک رہنما پر یہ شرمناک حملہ ہے۔ اس انتقامی، سازشی رویے کی گھناونی چال کو لعنت۔" پولیس کی تلاشی کی خبر پاتے ہی صبح کے وقت ابھیشیک کے گھر گئی تھیں مامتا بندوپادھیائے۔ تلاشی ختم ہونے پر وہ واپس چلی گئیں۔ ابھیشیک نے گھر سے باہر آکر بتایا کہ تالا توڑ کر ان کے پورے گھر کی ‘سرچ’ کی گئی ہے۔ معاملہ ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔ ڈائمنڈ ہاربر کے رکن پارلیمان نے قریبی معاون سے متعلق الزامات کی بھی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی کو گھر میں نہیں چھپایا، اس لیے تفتیشی ایجنسی کو کچھ بھی نہیں ملا۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments