Kolkata

درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ترنمول کی کوششیں تیز

درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ترنمول کی کوششیں تیز

کولکتہ2مارچ : ریاست بھر میں بی جے پی کی ’پریورتن یاترا‘ کے جواب میں اب ترنمول کانگریس کی نظریں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے ووٹ بینک پر ہیں۔ پیر کے روز نظرول منچ میں ترنمول کا ایک بڑا اجتماع منعقد ہو رہا ہے، جہاں پارٹی کے کل ہند جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی ان طبقات کے لیڈروں کے ساتھ اہم میٹنگ کریں گے۔ اس سے قبل 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی ’تفسلی سنلاپ‘ (درج فہرست مکالمہ) کے ذریعے عوامی رابطہ مہم چلائی گئی تھی، اور اب 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ایک بار پھر ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس میٹنگ میں انتخابی حکمت عملی ساز ادارے 'آئی پیک' کے سربراہ پرتیک جین بھی موجود ہیں۔ تقریب میں تقریباً ساڑھے تین ہزار ایم ایل ایز، آرگنائزرز اور لیڈران شریک ہیں۔ اس مہم میں سب سے اہم ’متوا‘ برادری کا علاقہ ہے، جو اس مکالمے کا حصہ ہے۔ رکن پارلیمنٹ ممتابالا ٹھاکر کا دعویٰ ہے کہ نئی فہرستوں کے مطابق کئی اسمبلی حلقوں میں تقریباً 90 فیصد متوا ووٹروں کے نام نکال دیے گئے ہیں۔ ریاستی اسمبلی کی 100 سے زائد نشستوں پر درج فہرست ذاتوں اور قبائل کا گہرا اثر ہے۔ انتخابی اعداد و شمار کے لحاظ سے ترنمول کا یہ قدم انتہائی اہم مانا جا رہا ہے۔ آج کی میٹنگ میں عوامی رابطے کا جو خاکہ تیار کیا جائے گا، اسی کی بنیاد پر عوامی نمائندے گھر گھر جا کر مہم چلائیں گے۔ ترنمول ذرائع کے مطابق، پارٹی لیڈران خصوصی گاڑیوں کے ذریعے ان علاقوں کا دورہ کریں گے اور مختلف برادریوں کے لوگوں سے مل کر ان کے مسائل اور شکایات سنیں گے۔واضح رہے کہ جنوبی بنگال میں خاص طور پر نادیہ، جنوبی 24 پرگنہ، مشرقی بردوان، جھاڑگرام، پورولیا اور مغربی مدنی پور میں ان طبقات کی بڑی آبادی ہے۔ شمالی بنگال میں علی پور دوار، جلپائی گوڑی اور کوچ بہار جیسے اضلاع پر ترنمول خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کا ووٹ شیئر تقریباً 45-46 فیصد تھا، جسے پارٹی اس بار مزید بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Source: PC- tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments