Kolkata

’سلیم دا، مجھے معاف کر دیں‘، ترنمول میں شمولیت کے ایک ہفتے کے اندر ہی پرتیک الرحمان نے محمد سلیم سے معافی مانگی

’سلیم دا، مجھے معاف کر دیں‘، ترنمول میں شمولیت کے ایک ہفتے کے اندر ہی پرتیک الرحمان نے محمد سلیم سے معافی مانگی

چند روز قبل تمام تر قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے پرتیک الرحمان نے ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی، جو بلاشبہ بائیں بازو (لیفٹ) کے رہنماوں اور کارکنوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ پرتیک الرحمان جیسے لیڈر، جو میدانِ عمل میں پارٹی کے لیے لڑتے رہے، ان کا یوں پارٹی چھوڑنا کوئی بھی قبول نہیں کر پا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بائیں بازو کے حامی اور کارکن ان کے خلاف شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوگوں کا دل ٹوٹنے پر پرتیک الرحمان نے ایک انٹرویو کے دوران معافی مانگی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی ملاقات سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم سے ہوئی، تو وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر معافی مانگیں گے۔ ڈائمنڈ ہاربر سے تعلق رکھنے والے پرتیک الرحمان گزشتہ ایک ہفتے سے سی پی ایم کی ریاستی اور ضلعی کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے اور ریاستی سکریٹری کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ ان کے استعفیٰ کے فوراً بعد یہ افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ وہ ترنمول میں شامل ہو رہے ہیں۔ 21 فروری کو ان افواہوں پر اس وقت مہر لگ گئی جب انہوں نے آمتلہ میں ترنمول کے آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھشیک بنرجی کے ہاتھوں پارٹی کا جھنڈا تھام لیا۔ تب سے ان پر تنقید کا سلسلہ عروج پر ہے۔ اکثر لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صرف اپنے مفاد کی خاطر سی پی ایم پر الزامات لگائے ہیں، کیونکہ بغیر کسی الزام کے پارٹی چھوڑنے پر ان پر ’موقع پرست‘ کا لیبل لگ جاتا۔ پرتیک الرحمان نے اپنے دفاع میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لیڈروں نے انہیں ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ ان کا اشارہ واضح طور پر محمد سلیم کی طرف تھا، جنہیں انہوں نے ’گبر سنگھ‘ کا خطاب بھی دیا تھا۔ دوسری جانب، محمد سلیم نے پرتیک کے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کھونا ایسا ہی ہے جیسے کسی بچھڑے ہوئے بچے کو کھو دینا۔

Source: PC- sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments