Kolkata

ریتابرتا بنرجی نے سکھندو شیکھر رائے کے استعفے کی حمایت کی

ریتابرتا بنرجی نے سکھندو شیکھر رائے کے استعفے کی حمایت کی

کولکاتہ، 8 جون: مغربی بنگال میں قائد حزبِ اختلاف ریتابرتا بنرجی نے ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما سکھندو شیکھر رائے کے پارٹی اور راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الزامات اور بیانات مکمل طور پر درست ہیں۔سکھندو شیکھر رائے کے استعفے کے بعد ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے طرزِ کار اور حالیہ انتخابی ناکامیوں کے حوالے سے نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے ۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریتابرتا بنرجی نے کہا، "انہوں نے (سکھندو شیکھر رائے ) اپنے الزامات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کی۔ ان کی باتیں سو فیصد درست ہیں۔" انہوں نے مزید کہا، "سیاست میں دکھاوے یا ڈرامے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ سکھندو دا نے سچ کے سوا ایک لفظ بھی نہیں کہا۔" ان کا کہنا تھا کہ ہم خیال افراد کے درمیان اتحاد برقرار رہنا ضروری ہے ۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سکھندو شیکھر رائے کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ترنمول کانگریس کے متعدد ارکانِ پارلیمان نئی دہلی میں مرکزی وزیر ماحولیات اور مغربی بنگال کے لیے بی جے پی کے مبصر بھپیندر یادو کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک ہوئے تھے ۔ جب ریتابرتا بنرجی سے پوچھا گیا کہ آیا سکھندو شیکھر رائے کا استعفیٰ ترنمول کانگریس کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج اور اختلافات کی علامت ہے ، تو انہوں نے اس بارے میں کسی بھی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا، "کوئی نہیں جانتا کہ آگے کیا ہوگا۔ میں ہر دن اور ہر لمحے کے حساب سے زندگی گزارتا ہوں، اس لیے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔" ریتابرتا بنرجی نے راجیہ سبھا میں اپنے دورِ رکنیت کے تجربات کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں پارٹی کے اندر نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے بعض ترنمول ارکانِ پارلیمان کا نام لیے بغیر الزام لگایا کہ گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران انہیں پارلیمنٹ میں پچھلی نشستوں پر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا، "سکھندو شیکھر رائے جیسے سینئر رکنِ پارلیمان کو بھی بہت کچھ برداشت کرنا پڑا۔ میں نے ان سے براہِ راست بات نہیں کی، لیکن میں ان کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں۔"

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments