Kolkata

ریلوے کے پھیری والے بھاری جرمانوں کی زد میں

ریلوے کے پھیری والے بھاری جرمانوں کی زد میں

ریلوے کے پھیری والے بھاری جرمانوں کی زد میں مرکزی اور ریاستی حکومت (مغربی بنگال) میں ایک ہی سیاسی جماعت کے آنے کے بعد ریلوے انتظامیہ نے اسٹیشن بہ اسٹیشن بے دخلی (انخلا) اور کریک ڈاون کی مہم تیز کر دی ہے۔ اس کریک ڈاون کا سب سے زیادہ نقصان ریلوے اسٹیشنوں پر کام کرنے والے چھوٹے پھیری والوں (ہاکرز) کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جن پر بھاری بھرکم جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں اور ان کے سٹال اور سامان ضبط کر لیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل جب ریاست میں مختلف جماعتوں کی حکومتیں تھیں، تو مقامی سیاست دانوں کی سرپرستی کی وجہ سے ان ہاکرز کو کچھ تحفظ حاصل تھا۔ لیکن اب جبکہ مرکز اور ریاست دونوں میں ایک ہی حکومت ہے، ریلوے نے اپنے قوانین کو سختی سے نافذ کرنا شروع کر دیا ہے اور پلیٹ فارمز، ریلوے کراسنگ اور اسٹیشن احاطے سے غیر قانونی قبضوں کو ہٹایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ان ہاکرز پر 5,000 سے 50,000 روپے تک کے بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، جو ان معمولی کاروبار کرنے والوں کی مالی استطاعت سے باہر ہیں۔ بہت سے ہاکرز تو جرمانہ ادا کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے انہیں گرفتاری یا طویل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریلوے کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مسافروں کی حفاظت، رش کو کم کرنے اور اسٹیشنوں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے ضروری ہے، کیونکہ غیر قانونی پھیری والے اکثر سامان بکھیر کر راستے روک لیتے ہیں اور حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ اب تک سینکڑوں ہاکرز اپنی روزی روٹی سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ غریب لوگ ہیں جو خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے چھوٹے چھوٹے اسٹال لگاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی پہلے سے اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی متبادل جگہ فراہم کی گئی ہے۔ بہت سے ہاکرز تو اپنا سارا سرمایہ ضبط ہونے کے بعد بے گھر اور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ایک ہاکر نے بتایا کہ "ہم یہاں 20 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ ہمارے بچے اسی کمائی پر پڑھتے تھے۔ اب اچانک سامان ضبط کر کے ہمیں نکال دیا گیا ہے، اور اتنا بڑا جرمانہ لگا دیا گیا ہے کہ ہم اسے ادا نہیں کر سکتے۔ اب ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں رہا۔تاہم، ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ مہم جاری رہے گی اور کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا موقف ہے کہ ریلوے کی زمینوں کا غیر قانونی استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا اور حفاظت اور صفائی کو یقینی بنانے کے لیے تمام غیر قانونی پھیری والوں کو ہٹانا ضروری ہے۔ اس اقدام نے ایک طرف جہاں مسافروں کو راحت پہنچائی ہے (اسٹیشن کے پلیٹ فارم صاف اور کھلے ہو گئے ہیں)، وہیں دوسری طرف ہزاروں غریب خاندانوں کے لیے معاشی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان ہاکرز کو متبادل جگہیں فراہم کرے، جیسے کہ بازار یا مخصوص زونز، تاکہ ان کی روٹی روٹی بھی جاری رہے اور ریلوے کا نظم و ضبط بھی برقرار رہے۔اب تک اس سخت کریک ڈاون میں بے شمار ہاکرز اپنا ذریعہ معاش کھو چکے ہیں، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کوئی سمجھوتہ نکالا جاتا ہے یا یہ مہم مزید تیز ہو جاتی ہے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments