Kolkata

ریاستی بجٹ میں گھریلو ملازم خواتین کو نظر انداز کیا گیا

ریاستی بجٹ میں گھریلو ملازم خواتین کو نظر انداز کیا گیا

ریاستی بجٹ میں گھریلو ملازم خواتین کو نظر انداز کیا گیا کیرالہ، تامل ناڈو، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ جیسی کئی ریاستوں میں گھریلو ملازمین کے لیے کم از کم اجرت کا اعلان کیا جا چکا ہے، لیکن اس ریاست (مغربی بنگال) میں ماضی کی کسی بھی حکومت نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل گھریلو ملازم خواتین اور خادمات کی ایک بڑی تعداد نے اپنے حقوق کے لیے تحریک شروع کی تھی۔ دیگر ریاستوں کا موازنہ: کیرالہ، تامل ناڈو، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ جیسی ریاستوں نے غیر منظم شعبے کے اس بڑے حصے کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے لیے قانونی طور پر کم از کم اجرت کا ڈھانچہ (Wage طے کیا ہے۔ اس سے ان ملازمین کو معاشی استحصال سے تحفظ ملتا ہے۔ مغربی بنگال میں لاکھوں خواتین گھریلو ملازم کے طور پر کام کرتی ہیں۔ طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انہیں 'مزدور' کا درجہ دیا جائے، ان کے کام کے اوقات متعین ہوں، اور انہیں صحت و سماجی تحفظ کی اسکیموں کا فائدہ ملے۔ لیکن اب تک کسی بھی حکومت نے اس کے لیے کوئی مستقل پالیسی یا قانون وضع نہیں کیا۔حکومتیں بجٹ میں دیگر شعبوں (جیسے آشا ورکرز، آنگن واڑی کارکنان یا دیگر اسکیم ورکرز) کے لیے الاونسز کا اعلان تو کرتی ہیں، لیکن نجی گھروں میں کام کرنے والی یہ خواتین اب بھی کسی بھی سرکاری تحفظ یا طے شدہ تنخواہ کے دائرے سے باہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ طبقہ منظم ہو کر اپنے سیاسی اور سماجی حقوق کے لیے آواز اٹھا رہا ہے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments