Kolkata

روز ویلی گھوٹالے میں گرفتار ہوکر اڑیسہ گئے تھے، وہاں بیماری کا بہانہ بنا کر زیادہ تر اسپتال میں ہی رہے :مہوا مترا

روز ویلی گھوٹالے میں گرفتار ہوکر اڑیسہ گئے تھے، وہاں بیماری کا بہانہ بنا کر زیادہ تر اسپتال میں ہی رہے :مہوا مترا

ترنمول کانگریس میں اب مشَل پَروی (زبردست الجھن) ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات کو اب قیادت خود کھلے عام سامنے لا رہی ہے۔ اسی فہرست میں شامل ہوا نیا ترین ’بے سرا‘ رکنِ پارلیمان سودیپ بندوپادھیائے کے لیے سوشل میڈیا پر پارٹی کی ایک اور رکنِ پارلیمان مہویا مائیترا کا بے مثال حملہ۔ انہوں نے چٹ فنڈ اسکینڈل میں سودیپ کی گرفتاری کی بات یاد دلائی۔ جیل سے بچنے کے لیے اس وقت انہوں نے بیماری کا ’بہانہ‘ کیا تھا، یہ الزام لگاتے ہوئے مہویا نے طنز کیا، ’اب بیمار ہو کر دہلی کے ہسپتال سے نکل کر غداری کرنے گئے!‘ کرشن نگر کی رکنِ پارلیمان کے اس طنز پر البتہ ابھی تک ’بے سرا‘ کیمپ یا سودیپ بندوپادھیائے کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ چٹ فنڈ کمپنی روز ویلی کے مالی اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں 2017 میں ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے ترنمول کے رکنِ پارلیمان سودیپ بندوپادھیائے۔ انہیں اڑیسہ لے جایا گیا۔ ای ڈی کی عدالت میں سماعت کے دوران ترنمول کے رکنِ پارلیمان کو بھوبنیشور کی جیل میں رکھا گیا۔ تاہم کچھ دنوں بعد سودیپ شدید بیمار ہو گئے اور زیادہ تر وقت ہسپتال میں رہے۔ اس دوران ان سے ملنے ہسپتال گئی تھیں ترنمول سپریمو ممتا بندوپادھیائے بھی۔ بعد میں البتہ اس مقدمے میں ضمانت پر رہا ہو کر پھر سے متحرک سیاست شروع کی ترنمول کے پرانے لیڈر نے۔ دوبارہ رکنِ پارلیمان بنے۔ اب 2026 کے انتخابات میں پارٹی کی شکستِ فاحش کے بعد تقریباً بکھری ہوئی حالت ہے۔ پارلیمانی اور قومی اسمبلی میں دو دھڑے بٹے ہوئے ہیں۔ اتوار کو دہلی میں 20 بے سروں نے سپیکر کو اپنی حیثیت سے آگاہ کرتے ہوئے خط دیا، ساتھ ہی نئی پارٹی NCPI سے منسلک ہو گئے۔ ممکنہ طور پر اس پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں سودیپ بندوپادھیائے۔ ان کے اس کردار کے بارے میں منظرِ عام پر آنے کے بعد ہی مہویا نے اپنے ایکس ہینڈل پر سودیپ کو ’دادا‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے سخت زبان میں حملہ کیا۔ مہویا کا کہنا ہے، ’2017 میں آپ روز ویلی اسکینڈل میں گرفتار ہونے کے بعد بیماری کا بہانہ بنا کر اس وقت کی BJD حکومت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیل سے ہسپتال گئے تھے۔ اب پھر اسی بیماری کے بہانے دہلی گئے غداری کرنے! تاپس رائے اور کنال گھوش نے آپ کو ٹھیک پہچان لیا تھا، ہم غلط تھے۔‘ دراصل شمالی کلکتہ میں ترنمول کی تنظیم کو لے کر سودیپ بندوپادھیائے اور تاپس رائے کے درمیان اندرونی کشمکش عروج پر تھی۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران اس معاملے پر پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئے تاپس رائے۔ اس الیکشن میں کولکاتا شمالی کے دو مدِمقابل بھی تھے۔ تاپس رائے کو شکست دے کر دوبارہ رکنِ پارلیمان بنے سودیپ۔ لیکن ان کی وہ خفیہ دشمنی ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ اس میں وقتاً فوقتاً اکسانے دکھائی دیتے ہیں کنال گھوش کو، جو اب رکنِ قانون ساز اسمبلی بن گئے ہیں۔ سبھی کے پاس سودیپ کے خلاف مختلف الزامات تھے۔ چنانچہ مہویا نے اپنی پوسٹ میں تاپس رائے اور کنال گھوش کے ناموں کا ذکر کیا ہے۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments