لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز ایک انتخابی ریلی کے دوران وزیراعظم نریندر مودی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’’کنٹرول‘‘ میں کام کررہے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت نے امریکہ کے ساتھ ایسے تجارتی معاہدے کیے ہیں جن کے تحت بھارت کے زرعی شعبے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور توانائی کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ’’ملک کا ڈیٹا بھی امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے اور ایسا کسی دباؤ کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘ کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے فیصلوں نے ملک کے چھوٹے تاجروں اور کاروباری طبقے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت صرف چند بڑے صنعت کاروں کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے، جس سے عام عوام اور کاروباری طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی نے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں صنعت تباہ ہوچکی ہے اور بے روزگاری عروج پر ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری نوکریاں صرف پارٹی سے وابستہ افراد یا رشتہ داروں کو دی جا رہی ہیں، جبکہ عام نوجوانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے مختلف مبینہ گھوٹالوں جیسے شاردا اور روز ویلی چٹ فنڈ اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے ترنمول کانگریس پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے۔ کانگریس لیڈر نے خواتین کے تحفظ کے معاملے پر بھی بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے علاقوں میں ملزمان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے آر جی کر میڈیکل کالج کے مبینہ ریپ اور قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں جوابدہی کا فقدان ہے اور حکومتیں مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے، جس میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 90 فیصد سے زائد ووٹنگ درج کی گئی، جبکہ دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو اور ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ یہ بیان انتخابی مہم کے دوران سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں قومی اور ریاستی سطح کے مسائل ایک ساتھ زیر بحث آ رہے ہیں اور مختلف جماعتیں ایک دوسرے پر تند و تیز حملے کر رہی ہیں۔
Source: social media
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی