کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاست کی جیلوں (اصلاحی مراکز) میں قیدیوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس دیبانشو باساک اور جسٹس محمد صبار رشیدی پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے واضح کیا کہ انتخابات کی وجہ سے انتظامی کام متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن کسی کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا۔عدالت میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق ریاست کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ ہے:ریاست میں کل 61 اصلاحی مراکز ہیں۔ان جیلوں میں 21,992 قیدیوں کی گنجائش ہے، لیکن فی الحال 23,886 قیدی وہاں موجود ہیں۔ یعنی 1,894 قیدی اضافی ہیں۔ مالدہ اصلاحی مرکز میں صرف 353 قیدیوں کی جگہ ہے، لیکن وہاں 1,075 قیدی رکھے گئے ہیں۔عدالت نے جیلوں میں طبی سہولیات کے فقدان پر برہمی کا اظہار کیا: 61 جیلوں کے لیے صرف 27 ڈاکٹرز دستیاب ہیں جیل عملے کی تقریباً 1,000 آسامیاں خالی پڑی ہیں حکومتی وکیل نے کہا کہ انتخابات کے بعد تقرریاں کی جائیں گی اور فی الحال فارماسسٹ کام سنبھال رہے ہیں۔ جس پر جسٹس باساک نے سخت لہجے میں کہا کہ "ڈاکٹر کا کام فارماسسٹ نہیں کر سکتا، انتخابات کو بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔سماعت کے دوران قیدیوں کی اموات کا ہولناک اعداد و شمار سامنے آیا: 2022 سے اب تک ریاست کی جیلوں میں 178 قیدیوں کی موت ہو چکی ہے۔ان 178 خاندانوں میں سے صرف 2 خاندانوں کو معاوضہ ملا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ باقی خاندانوں کو اب تک رقم کیوں نہیں دی گئی اور کیا وہ اب بھی SIR (ووٹر لسٹ یا دیگر انتظامی لسٹوں) کے عمل میں پھنسے ہوئے ہیں؟
Source: PC-sangbadpratidin
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی