Kolkata

پروفیسر کو پریسائیڈنگ افسر کیوںکیاگیا؟ الیکشن کمیشن کورٹ کا جواب نہیں دے سکا

پروفیسر کو پریسائیڈنگ افسر کیوںکیاگیا؟ الیکشن کمیشن کورٹ کا جواب نہیں دے سکا

کلکتہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ریاست کے اعلیٰ تعلیمی حلقوں کے لیے ایک بڑی راحت لے کر آیا ہے۔ بنیادی طور پر عہدے اور تنخواہ کے ڈھانچے کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے عدالت نے یہ مداخلت کی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہ اور سماجی مرتبہ کافی بلند ہے۔ اس کے مطابق انہیں جو ذمہ داری (پریزائیڈنگ آفیسر) دی گئی، عدالت نے اسے غیر متناسب قرار دیا ہے۔ کمیشن عدالت میں اس بات کی کوئی معقول وجہ یا "درست جواب" پیش نہیں کر سکا کہ انہیں پریزائیڈنگ آفیسر کے طور پر کیوں منتخب کیا گیا۔ وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک تربیت میں حصہ نہیں لیا یا جن پر ہدایات لاگو نہیں ہوئیں، انہیں اس ذمہ داری سے مکمل طور پر چھوٹ مل جائے گی۔ تاہم، جن کی تربیت پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے یا شروع ہو چکی ہے، ان کے لیے کمیشن کا حکم برقرار رہے گا۔ یعنی وہ اس الیکشن میں پریزائیڈنگ آفیسر کے طور پر کام کریں گے۔اس فیصلے کے نتیجے میں، ریاستی حکومت یا کمیشن مستقبل میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ماہرینِ تعلیم کو انتخابی ڈیوٹی پر مامور کرنے کے حوالے سے مزید محتاط رہے گا۔سادہ الفاظ میں، عدالت نے پروٹوکول اور پیشہ ورانہ وقار کے مسئلے کو اہمیت دی ہے، جو اکثر بیوروکریٹک پیچیدگیوں میں اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments