Kolkata

پرائیویٹ ہسپتال میں بھی ’فری‘ سروس! ہیلتھ منسٹر کا بڑا فیصلہ

پرائیویٹ ہسپتال میں بھی ’فری‘ سروس! ہیلتھ منسٹر کا بڑا فیصلہ

کلکتہ: ریاست کے محکمہ صحت کی خراب تصویر کئی بار سامنے آ چکی ہے۔ آر جی کر معاملے کے بعد یہ زخم اور زیادہ گہرا ہو گیا۔ ریفر کی بیماری، دلالوں کے نیٹ ورک کی وجہ سے ریاست کی صحت کی حالت دن بہ دن گرتی جا رہی ہے۔ اس حالت کو بہتر بنانا اب نئے ہیلتھ منسٹر شاردوو مکھرجی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ محکموں کی تقسیم کے فوراً بعد ہی سروس کے بارے میں بڑے فیصلے کا اعلان کیا شاردوو نے۔ سرکاری ہسپتال میں جگہ نہ ملنے پر پرائیویٹ ہسپتال میں سروس ملے گی۔ شہر کے پرائیویٹ ہسپتالوں کے 10 فیصد بستروں پر مفت وہ سروس ملے گی۔ تاہم وہ سروس لینے کے لیے کوئی کارڈ دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ صرف آدھار کارڈ ہونا کافی ہوگا۔ شاردوو مکھرجی نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں بستروں کی کمی ہے۔ اس لیے مریضوں کو واپس بھیجنے کی شکایات کوئی نئی نہیں ہیں۔ نئے اصول کے تحت، کسی بھی سرکاری ہسپتال میں اگر مریض کو جگہ نہیں ملتی، تو اسے قریبی پرائیویٹ ہسپتال لے جایا جائے گا۔ وہاں 10 فیصد بستر محفوظ رہیں گے، تاکہ واپس بھیجے گئے مریض کو مفت سروس مل سکے۔ پچھلی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے شاردوو نے کہا، "اتنے دنوں تو کٹ منی لی جاتی تھی، اس لیے آنکھوں میں جھونپ کر کوئی مفت سروس دینے کی بات نہیں کہتا تھا۔ اب قانون کا راج قائم ہو گیا ہے۔" تاہم اس سروس کو مکمل طور پر لاگو کرنے میں مزید کچھ دن لگیں گے۔ ایک ٹول فری نمبر بھی شروع کیا جائے گا۔ اشتہار دیا جائے گا۔ تاکہ عام لوگ اس معاملے کے بارے میں جان سکیں۔ واضح رہے کہ ترنمول حکومت کے دور میں ’ریفر بیماری‘ کا شکار متعدد مریض ہو چکے ہیں۔ بستر نہ ملنے پر ہسپتالوں کے باہر پڑے رہنا پڑا ہے۔

Source: PC-tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments