Kolkata

وزیر اعظم آواس یوجنا یا بنگلار باڑی کی دستاویزات ایس آئی آر میں قابل قبول نہیں

وزیر اعظم آواس یوجنا یا بنگلار باڑی کی دستاویزات ایس آئی آر میں قابل قبول نہیں

کولکاتا16فروری :مرکزی حکومت کی 'وزیر اعظم آواس یوجنا' یا ریاستی حکومت کے 'بنگلار باڑی' پروجیکٹ کی دستاویزات ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گی۔ الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال کے سی ای او دفتر کو خط لکھ کر یہ واضح کر دیا ہے۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال نے کمیشن سے پوچھا تھا کہ کیا ان دونوں منصوبوں کی دستاویزات ایس آئی آر کی سماعت کے دوران قبول کی جا سکتی ہیں۔ کمیشن نے ان کے سوال کے جواب میں صورتحال واضح کر دی ہے۔ 27 اکتوبر 2025 کو ایس آئی آر کے نوٹس میں کمیشن نے کہا تھا کہ بطور دستاویز حکومت کی طرف سے منظور شدہ گھر یا زمین کا سرٹیفکیٹ قبول کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ابہام پیدا ہوا اور بہت سے لوگوں نے سمجھا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے گھر بنانے کے لیے دی جانے والی مالی امداد کی دستاویزات دکھانے سے بھی ایس آئی آر کا کام ہو جائے گا۔ چنانچہ بہت سے لوگ سماعت کے دوران یہی دستاویزات لے کر آئے۔ منوج کمار اگروال نے اس الجھن کو دور کرنے کے لیے کمیشن سے وضاحت طلب کی تھی اور 21 جنوری کو نئی دہلی میں کمیشن کے ہیڈ کوارٹر کو خط لکھا تھا، جس کا جواب پیر کے روز آگیا ہے۔ کمیشن نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ان دونوں منصوبوں کی دستاویزات اس سلسلے میں قابل قبول نہیں ہیں۔ سی ای او کو دی گئی وضاحت میں کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 9 فروری کے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جن لوگوں کو ایس آئی آر کے نوٹس موصول ہو رہے ہیں، وہ صرف کمیشن کے ایس آئی آر سے متعلق نوٹیفکیشن میں درج دستاویزات پر ہی بھروسہ کر سکتے ہیں۔ کمیشن کی 19 جنوری کی گائیڈ لائنز میں درج دستاویزات بھی قابل قبول ہوں گی۔ کمیشن کے نوٹیفکیشن میں حکومت کی طرف سے دی گئی زمین یا گھر کے سرٹیفکیٹ کا ذکر تو ہے، لیکن وزیر اعظم آواس یوجنا یا بنگلار باڑی پروجیکٹ کے تحت مالی امداد کی منظوری اس زمرے میں نہیں آتی۔ اس لیے یہ دستاویزات قبول نہیں کی جا سکتیں۔ریاست میں ایس آئی آر کی سماعت مکمل ہو چکی ہے اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔ کمیشن 28 فروری کو حتمی ووٹر لسٹ شائع کرے گا۔ جن لوگوں نے سماعت کے دوران مرکز یا ریاست کے ان دو منصوبوں کی دستاویزات جمع کرائی ہیں، ان سے اب دیگر دستاویزات طلب کی جا سکتی ہیں۔ کمیشن حتمی فہرست کی تیاری میں شروع ہی سے سخت موقف اپنائے ہوئے ہے اور یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر فہرست میں کسی غیر ملکی شہری کا نام رہ گیا، تو متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments