Kolkata

اپوزیشن کا ٹیگ بچانے کےلئے کنال گھوش خط لے کر اسمبلی پہنچے، سکریٹری نے لینے سے انکار کر دیا

اپوزیشن کا ٹیگ بچانے کےلئے کنال گھوش خط لے کر اسمبلی پہنچے، سکریٹری نے لینے سے انکار کر دیا

پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ ناگزیر ہے، یہ ممکنہ طور پر تری نمل قیادت سمجھ چکی ہے۔ اس لیے کم از کم اسمبلی میں 'مرکزی اپوزیشن' کا ٹیگ برقرار رکھنے کے لیے ممتا بنرجی کی پارٹی بے چین ہے۔ اسی مقصد کے تحت منگل کو نیا خط لے کر اسمبلی میں حاضر ہوئے تری نمل کے دو ایم ایل اے کنال گھوش اور اسمیما پاترا۔ اسپیکر رتھن بوس کی غیر موجودگی میں وہ خط ان کے سیکریٹری کے حوالے کرنا چاہتے تھے تری نمل کے دونوں ایم ایل اے۔ لیکن اسپیکر کے سیکریٹری نے مبینہ طور پر وہ خط قبول ہی نہیں کیا۔ کنال کا یہی الزام ہے۔ منگل کی دوپہر اسمبلی پہنچے کنال۔ اسپیکر کے نام ایک خط لے کر گئے تھے تری نمل کے دو ایم ایل اے۔ لیکن کنال کا الزام ہے کہ وہ خط جو وہ دینا چاہتے تھے، اسپیکر کے سیکریٹری نے وہ خط لینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بتا دیا کہ وہ اب کوئی خط قبول نہیں کریں گے۔ دراصل پیر کو تری نمل کی طرف سے ایک خط اسپیکر کو دیا گیا تھا۔ وہ خط سیکریٹری نے قبول کیا تھا۔ الزام ہے کہ وہ خط قبول کرنے کے بعد ہی اسپیکر کے سیکریٹری کو واضح ہدایت دے دی گئی کہ وہ اپوزیشن جماعت کی طرف سے کوئی خط قبول نہیں کر سکتے۔ اسی وجہ سے سیکریٹری نے وہ خط قبول نہیں کیا۔ کنال کا واضح الزام ہے کہ اسپیکر کی طرف سے بلکہ اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے اسپیکر کے سیکریٹری کو صاف بتا دیا گیا کہ وہ کوئی خط قبول نہیں کر سکتے۔ اس لیے مجبوراً انہوں نے وہ خط اسپیکر کے سیکریٹری کی کرسی پر پیپر ویٹ دبا کر رکھ دیا ہے۔ اور پورے معاملے کی ویڈیو گرافی کی ہے۔ کنال کا کہنا ہے، "اسپیکر خود ملنا نہیں چاہتے، دوسری طرف خط بھی نہیں دیا جا سکتا، ایسا ہوتا ہے کیا!" اس سلسلے میں اسپیکر کی طرف سے کوئی وضاحت ابھی تک نہیں مل سکی ہے۔ تاہم ریاستی وزیر تاپس رائے نے بتایا، "چونکہ دستخط جعل سازی پر ایک شکایت ہوئی ہے، سی آئی ڈی اس کی تفتیش کر رہی ہے، فرانزک ماہرین آ رہے ہیں، اسی وجہ سے خط نہ لینے کی ہدایت ہو سکتی ہے۔ لیکن اسپیکر نے اگر کوئی ہدایت دی ہے، تو اس پر بحث کرنا مناسب نہیں ہے۔"

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments