ہوڑہ میں پھر غریبوں کی بستی پر چلا بلڈوزر، ہزاروں افراد بے گھر ہوڑہ شہر میں ریلوے کی جانب سے ایک بار پھر بلڈوزر کے ذریعے بستیوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز ریلوے انتظامیہ نے ہوڑہ کے ایک پرانے علاقے میں واقع جھگی جھونپڑیوں کو گرا کر تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد کو بے گھر کر دیا۔ یہ لوگ کئی دہائیوں سے اس جگہ پر رہائش پذیر تھے، تاہم ریلوے نے انہیں بغیر کسی متبادل پناہ گاہ یا باز آباد کاری کے منصوبے کے بے دخل کر دیا، جس سے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ریلوے نے یہ کارروائی اس بنیاد پر کی کہ یہ بستیاں ریلوے کی زمین پر غیر قانونی طور پر قابض ہیں اور ٹرینوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے کبھی کوئی نوٹس یا انتباہ نہیں دیا گیا، اور اچانک بلڈوزر آ کر ان کے مکانات کو زمین بوس کر دیا۔ خواتین، بچے اور بوڑھے سب سڑکوں پر آ گئے، اور ان کے پاس اپنا سامان بچانے کا بھی وقت نہیں تھا۔ اس بے دخلی کے خلاف مقامی رہائشیوں نے فوری طور پر احتجاج شروع کر دیا۔ ان کے ہمراہ سی پی ایم (کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)) کی یوتھ ونگ ڈی وائی ایف آئی (ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا) کے کارکنان بھی سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ریلوے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ متاثرین کو فوری طور پر متبادل جگہیں دی جائیں۔ احتجاج کے باعث علاقے میں کچھ دیر کے لیے ٹریفک جام اور کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی، تاہم کسی بھی فریق کی جانب سے کسی بڑے جھڑپ کی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی سیاست دانوں نے بھی اس معاملے پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔ سی پی ایم اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ریلوے انتظامیہ کے اس اقدام کو "غیر انسانی" قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر پناہ گزینی کے ایسی بے دخلی قابلِ مذمت ہے۔ وہیں کچھ حکام کا کہنا ہے کہ یہ زمین ریلوے کی ملکیت ہے اور طویل عرصے سے قانونی کارروائی جاری تھی، تاہم متاثرین کو متبادل کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد اب بے سہارا ہیں۔ ان میں زیادہ تر روزانہ مزدور، رکشہ چلانے والے اور چھوٹے دکان دار شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس رات گزارنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور وہ اپنے بچوں اور بزرگوں کے ساتھ سڑک کنارے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ انہیں فوری طور پر رہائش فراہم کی جائے اور ان کے نقصان کا معاوضہ دیا جائے۔ فی الحال انتظامیہ نے متاثرین کو عارضی طور پر قریبی اسکولوں یا پنڈالوں میں رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ریلوے نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اعلیٰ حکام سے مشاورت کر رہے ہیں۔ احتجاج جاری ہے اور سیاسی جماعتوں نے آئندہ چند روز میں بڑے مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکومت اور ریلوے اس بحران کا کوئی پائیدار حل نکال پائیں گی یا نہیں۔
Source: Social Media
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی