Kolkata

نیو ٹاﺅن میں ہاکروںکی باز آبادکاری کو لے کر سوال

نیو ٹاﺅن میں ہاکروںکی باز آبادکاری کو لے کر سوال

نیو ٹاون میں ہاکروں کی تعداد سروے کے مقابلے میں تقریباً دوگنی پائی گئی ہے، جس کے باعث انتظامیہ کے سامنے ان کی بازآبادکاری اور منتقلی کا عمل پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے متعلقہ حکام جلد ہی ہاکروں کو نوٹس جاری کرنے جا رہے ہیں۔ نیو ٹاون کی نگرانی کرنے والے دو اہم اداروں، HIDCO اور NKDA، کے ذرائع کے مطابق ہاکروں کی منتقلی اور بازآبادکاری کے لیے ایک واضح منصوبہ موجود ہے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری سروے میں جتنے ہاکروں کا اندراج کیا گیا تھا، اس وقت میدانِ عمل میں ان کی تعداد اس سے تقریباً دوگنی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیو ٹاون کی سڑکوں، فٹ پاتھوں اور مختلف عوامی مقامات پر بڑی تعداد میں ایسے ہاکر بھی کاروبار کر رہے ہیں جو یا تو ابتدائی سروے میں شامل نہیں تھے یا بعد میں وہاں آ کر کاروبار شروع کیا۔ اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ بازآبادکاری کی سہولت کس حد تک اور کن افراد کو فراہم کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق جلد ہی ہاکروں کو نوٹس جاری کیے جائیں گے، جن کے ذریعے ان کی شناخت، کاروباری حیثیت اور قانونی دستاویزات کی جانچ کی جائے گی۔ اس عمل کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ کون سے ہاکر بازآبادکاری کے اہل ہیں اور کن افراد کو متبادل جگہ فراہم کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ شہر میں ٹریفک کی روانی، فٹ پاتھوں پر پیدل چلنے والوں کی سہولت اور شہری نظم و نسق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ان لوگوں کے روزگار کا بھی خیال رکھنا چاہتی ہے جو برسوں سے ہاکری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔ لیکن چونکہ موجودہ تعداد سرکاری اندازوں سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے بازآبادکاری کا پورا عمل خاصا مشکل اور وقت طلب بن گیا ہے۔ امکان ہے کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی اور مختلف علاقوں میں تجاوزات ہٹانے کے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے صورتحال کا مکمل جائزہ لیا جائے گا تاکہ روزگار اور شہری سہولتوں کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments