Kolkata

نئی حکومت کے بجٹ کی باغی ترنمول ایم ایل اے نے خیر مقدم کیا

نئی حکومت کے بجٹ کی باغی ترنمول ایم ایل اے نے خیر مقدم کیا

بی جے پی حکومت نے پہلا بجٹ پیش کیا۔ قدرتی طور پر اس پر سب سے پہلے تنقید کرنا ممتا بنرجی کا کام تھا۔ لیکن قسمت کا کیا طنز! بجٹ پیش کرنے کے کئی گھنٹے بعد بھی تری نول سپریمو مکمل طور پر خاموش ہیں۔ نہ صرف وہ، بلکہ ممتا حامی کسی بھی لیڈر نے اس پر منہ نہیں کھولا۔ دیکھا گیا کہ اسمبلی میں سب سے پہلے بجٹ پر تنقید ’اصلی ترنمول کے پارٹی لیڈر رِتبرتا بنرجی نے کی۔ بجٹ پیش کرنے کے بعد اس کے اچھے برے پہلووں پر حزب اختلاف بحث کرے گی، یہ دستور ہے۔ کس فیصلے سے عوام کو فائدہ ہوا، کون سا فیصلہ منفی ہے، ہر بار اس پر اپنی رائے دیتے ہیں حزب اختلاف کے لوگ۔ گزشتہ فروری میں جب اس وقت کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے عبوری بجٹ پیش کیا تھا تو اس وقت کے حزب اختلاف کے لیڈر شوبھیندو ادھیکاری اس پر تنقید میں سرگرم ہو گئے تھے۔ چھبیس کے انتخابات کے نتائج کے مطابق، آج کے بجٹ پر سب سے پہلے بولنا تھا تری نول سپریمو ممتا بنرجی کا یا ان کی پسندیدہ ’حزب اختلاف کی لیڈر‘ شوبھن دیو چٹوپادھیائے کا۔ لیکن اسمبلی انتخابات کے نتائج اعلان کے بعد ہی بنگال کی سیاست میں نیا موڑ آ گیا۔ ممتا کا ہاتھ چھوڑ کر ان کے نشان پر جیتنے والے ۶۴ ایم ایل اے نے اسمبلی میں اکٹھے ہو کر خود کو ’اصلی تری نول‘ قرار دیا ہے۔ ان کے پارٹی لیڈر رِتبرتا بنرجی ہیں۔ وہی خود کو مرکزی حزب اختلاف کی جماعت قرار دے رہے ہیں۔ نتیجتاً ممتا بنرجی مکمل طور پر کونے میں دھکیل دی گئی ہیں۔ اس لیے اس وقت وہ کوئی معمولی غلط قدم بھی نہیں اٹھانا چاہتیں۔ اسی لیے اتوار کو ہی انہوں نے ابھی تک ساتھ رہنے والے رہنماوں کو صاف کہہ دیا کہ بجٹ کی اندھی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔ پہلے اچھی طرح دیکھیں پھر تبصرہ کریں۔ اس لیے ابھی ممتا اور ان کے ساتھی خاموش ہیں۔ دوسری طرف حزب اختلاف کے لیڈر کی حیثیت سے رِتبرتا نے بجٹ پر اپنا تبصرہ جاری کر دیا۔ بجٹ جیسے اہم دن پر ممتا کا یوں ’غائب‘ ہو جانا یہی بتا رہا ہے کہ وہ بتدریج غیرمتعلق ہو رہی ہیں۔ آج بجٹ کی تنقید میں رِتبرتا نے کیا کہا؟ ان کے الفاظ میں، "ہم اندھی مخالفت نہیں کریں گے۔ ڈی اے میں اضافے کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ ضروری تھا۔ چائے کے باغات کے لیے جو فیصلہ کیا گیا ہے، وہ اچھا ہے۔ تاہم کئی معاملات پر اعتراض بھی ہے۔ وہ بجٹ بحث کے دن کہیں گے۔" بجٹ کے حوالے سے ’اصلی تری نول‘ کے چیف وہپ اخروزمان کا کہنا ہے، "اس بجٹ میں ایک کمیونٹی کو کونے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ پچھلی بار اقلیتی برادری کے لیے ۵ ہزار ۶۰۰ کروڑ روپے مختص تھے۔ اس بار یہ کم ہو کر ۲ ہزار ۷۰۰ کروڑ ہو گیا ہے۔ یہ پسماندہ طبقوں کے ساتھ نامادری کا سلوک ہے۔"

Source: PC-tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments