Kolkata

نئے سال کے جشن کے لیے چینی خاندانوں کی کولکتہ واپسی، چائنا ٹاؤن میں ہر زبان پر 'شن نیان کوا لا'

نئے سال کے جشن کے لیے چینی خاندانوں کی کولکتہ واپسی، چائنا ٹاؤن میں ہر زبان پر 'شن نیان کوا لا'

دکانوں میں 'شیانگ' اور 'لا ژو' کے ڈھیر لگے ہیں۔ ایلکس چیو اپنی ماں کے ساتھ ان کی خریداری میں مصروف ہے۔ وین کو پلاسٹک کی چینی لالٹینیں پسند ہیں، جبکہ پینگ اپنے گھر کو 'جیان ژی' سے سجائے گا۔ منگل کے روز چینی برادری کا نیا سال ہے۔ چینی کیلنڈر کے مطابق یہ 'گھوڑے کا سال' ہے۔ پیر کی رات 'سانپ کے سال' کو الوداع کہہ کر گھوڑے کے سال کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ کولکتہ کے چینی باشندے پیر کی رات سے ہی جشن میں مگن ہو جائیں گے اور ایک دوسرے کو 'شن نیان کوا لا' کہہ کر نئے سال کی مبارکباد دیں گے۔ اس مبارک موقع کے لیے ٹینگرہ کا چائنا ٹاؤن اور ٹیریٹی بازار سج دھج کر تیار ہو رہے ہیں۔ اتوار سے ہی نئے سال کی خریداری شروع ہو چکی ہے۔ ساؤتھ ٹینگرہ روڈ اور مہیشور تلا روڈ پر چند دکانیں ایسی ہیں جو چینی نئے سال کے لیے ضروری سامان فروخت کرتی ہیں۔ کہیں مختلف سائز کی موم بتیاں یعنی 'لا ژو' کے ڈھیر ہیں، تو کہیں مختلف قسم کی اگربتیاں یعنی 'شیانگ' دستیاب ہیں، جو نئے سال کے آغاز پر عبادت اور پوجا کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس کے علاوہ دکانوں میں رنگ برنگے 'جیان ژی' یا اسٹیکرز لٹک رہے ہیں، جنہیں خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سال بھر خوش بختی کو برقرار رکھنے کے لیے گھر کے دروازے پر تین یا پانچ 'جیان ژی' اسٹیکرز لگائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی فینگ شوئی کے مطابق خوش قسمتی کی علامتیں اور چینی لالٹینیں بھی لٹکائی جاتی ہیں۔ پوجا کے پھلوں کے طور پر سنگترے اور سیب خریدے جا رہے ہیں۔ کولکتہ میں اس وقت چینی باشندوں کی تعداد دو ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ ان میں ایک بڑا حصہ بزرگوں کا ہے۔ اگلی نسل کا ایک بڑا حصہ کینیڈا، آسٹریلیا یا امریکہ میں مقیم ہے۔ لیکن نئے سال کے آغاز سے قبل وہ اپنے گھر یعنی کولکتہ واپس آ جاتے ہیں۔ چین چی اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں رہتے ہیں۔ چین بتاتے ہیں کہ وہ کئی سال پہلے بیرون ملک چلے گئے تھے، لیکن چینی نئے سال سے قبل وہ ہر سال کی طرح دو ہفتوں کی چھٹی لے کر اپنے شناسا شہر واپس آ گئے ہیں۔ ٹینگرہ اور ٹیریٹی بازار میں خوبصورت گیٹ نصب کر دیے گئے ہیں۔ سڑکوں کو روشنیوں اور چینی لالٹینوں سے سجایا جا رہا ہے۔ گھروں کے گیٹ اور دروازوں کو سرخ رنگ سے رنگا جا رہا ہے۔ اتوار سے ہی علاقوں میں 'چینی لائن ڈانس' اور 'ڈریگن ڈانس' شروع ہو گیا ہے۔ پیر کی شام کے بعد ٹینگرہ اور ٹیریٹی بازار میں محفلیں جمیں گی، لائن ڈانس ہوگا اور ٹینگرہ کے چینی اسکول میں 19 اور 20 فروری کو کارنیول منعقد کیا جائے گا۔ ثقافتی پروگراموں کے علاوہ وہاں طرح طرح کے چینی پکوانوں سے لطف اندوز ہوا جا سکے گا۔ ٹینگرہ کے رہائشی ہاؤ اور لیان لن بتاتے ہیں کہ ان کے لیے نیا سال صرف ثقافتی پروگرام منانا نہیں بلکہ خاندان کے افراد کا ایک دوسرے کے قریب آنا ہے۔ نئے سال کے دن باتوں اور محفلوں میں گزرتے ہیں۔ گھروں میں لذیذ کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ چینی برادری کا ایک بڑا حصہ موم بتیاں، اگربتیاں، پھل اور کھانا لے کر اپنے مندروں میں پہنچتا ہے۔ بہت سے چینی خاندانوں کو ٹینگرہ کا 'چائنیز کالی مندر' بھی پسند ہے۔ مندر میں موم بتیاں اور اگربتیاں جلا کر نئے سال کا استقبال کیا جاتا ہے اور خوشبودار نقلی نوٹ بھی جلائے جاتے ہیں۔ ایلکس چیو بتاتے ہیں کہ صرف خدا کی عبادت ہی نہیں، بلکہ اس دن وہ اپنے آباؤ اجداد کو بھی نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی تصویروں کے سامنے پھل، گوشت اور شراب پیش کی جاتی ہے اور موم بتیاں و اگربتیاں جلائی جاتی ہیں۔ اس بار بھی کولکتہ کے چینی باشندے خدا اور اپنے بزرگوں سے دعا مانگ کر نئے سال کا آغاز کریں گے۔

Source: PC- sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments