دیگر سالوں کی طرح اس سال بھی ہولی اور دول کے رنگا رنگ جلوس کے دوران لکشمی نارائن رولز روئس ونٹیج کار میں سوار ہو کر ہاؤڑہ سے کولکتہ کے مندر واپس پہنچ گئے۔ چار دن قبل فالگن کے مہینے کی دسویں تاریخ کو بڑا بازار کی کلاکار اسٹریٹ کے ستیہ نارائن مندر سے رولز روئس پر سوار ہو کر ستیہ نارائن اور لکشمی ہاؤڑہ کے ستیہ نارائن مندر آئے تھے۔ جس طرح وہ آئے تھے، بالکل اسی طرح اتوار کو بڑا بازار کے مندر میں واپس لوٹ گئے۔ اس جلوس کے باعث اتوار کو کولکتہ اور ہاؤڑہ کے مناظر ورنداون جیسے نظر آنے لگے، اور اس رولز روئس ہولی فیسٹیول نے دونوں شہروں کو ایک رنگ میں رنگ دیا۔ کیرتن، ناچ گانے اور ابیر کے رنگوں نے اس جلوس کو مزید پرکشش بنا دیا۔ واضح رہے کہ پچھلے 140 سالوں سے دول (ہولی) سے قبل کولکتہ سے ہاؤڑہ تک لکشمی نارائن کے اس جلوس کی روایت چلی آ رہی ہے۔ ونٹیج کار میں جلوس کے دوران عام لوگ بھی پیشگی ہولی مناتے ہیں۔ لوگ نارائن اور لکشمی کو رادھا کرشن کے روپ میں دیکھتے ہیں اور بتوں کو بھی رادھا کرشن کے طور پر ہی سجایا جاتا ہے۔ اسی جلوس کے ساتھ ہی شہر میں ہولی کے تہوار کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ نارائن اور لکشمی کولکتہ کے باگلا خاندان کے ہیں، جو خاندان کے کولکتہ والے گھر کے مندر سے ہاؤڑہ والے گھر کے مندر میں آتے ہیں اور چار دن وہاں قیام کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ باگلا خاندان کے مطابق ان کے پاس اشٹ دھاتو (آٹھ دھاتوں) کے بنے ہوئے ستیہ نارائن اور لکشمی کے تین جوڑے ہیں، جن میں سے ایک کولکتہ، ایک میانمار اور ایک وارانسی میں موجود ہے۔ اس ونٹیج کار کی تاریخ کے بارے میں خاندان کے افراد نے بتایا کہ یہ رولز روئس سلور گھوسٹ 1921 میں بنی تھی۔ ایک زمانے میں مشہور مصنف روڈیارڈ کپلنگ اس گاڑی کے مالک تھے۔ 1927 میں کولکتہ کی کاروباری برادری کی ممتاز شخصیت کمار گنگادھر باگلا نے یہ گاڑی خرید لی تھی۔ تب سے اسی گاڑی میں نارائن اور لکشمی رادھا کرشن کے روپ میں جلوس کی زینت بنتے ہیں۔
Source: PC- sangbadpratidin
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی