Kolkata

"میں 1984 سے الیکشن لڑ رہی ہوں، لیکن اس بار..." ممتا بنرجی نے بنگال میں اپنی جیت کو لے کر کیا کہا

"میں 1984 سے الیکشن لڑ رہی ہوں، لیکن اس بار..." ممتا بنرجی نے بنگال میں اپنی جیت کو لے کر کیا کہا

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بدھ (29 اپریل) 2026 کو 142 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے ۔ پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے میں بھی ووٹروں میں کافی جوش و خروش دیکھا گیا۔ شام 5 بجے تک مجموعی طور پر 90 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھا۔ ووٹنگ کے دوران کچھ علاقوں سے تشدد اور گڑبڑ کی چھٹپٹ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی بڑا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مرکزی فورسز کی کڑی نگرانی اور 142 جنرل مبصرین اور 95 پولیس مبصرین کی تعیناتی نے صورتحال کو کافی حد تک قابو میں رکھا۔ دریں اثناء مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری کے درمیان لفظوں کی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ سی ایم ممتا بنرجی نے ریاست میں سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ بھوانی پور میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد، انہوں نے کہا، “ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) الیکشن جیت رہی ہے۔ سی آر پی ایف اس طرح تشدد نہیں کر سکتا۔” ممتا نے ووٹ ڈالنے کے بعد فتح کا نشان لہرایا۔ ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا، “مرکزی فورسز اور مرکزی مبصرین لوگوں کو مار رہے ہیں، انہوں نے خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا، انہوں نے کل رات مظالم شروع کیے، انہوں نے ہمارے بہت سے لوگوں کو حراست میں لیا، یہ عدالت کی توہین ہے، میں نے جمہوریت کو اس طرح کبھی نہیں دیکھا۔” انہوں نے کہا، “سی آر پی ایف لوگوں کو اس طرح ہراساں نہیں کر سکتا۔ یہاں کوئی ریاستی پولیس نہیں ہے، انہیں سرحد کی حفاظت کرنی چاہیے، لیکن اس کے بجائے وہ ایک سیاسی جماعت کی حفاظت کر رہے ہیں۔” میں 1984 سے الیکشن لڑ رہی ہوں، لیکن اس بار جو ظلم ہوا ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔انہوں نے عورتوں اور بچوں کو مارا ہے۔ رانا گھاٹ، کلیانی، آرام باغ، گھوگھاٹ، کیننگ، ان تمام جگہوں سے ایجنٹوں کو نکال باہر کیا ہے۔ کیا یہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں؟

Source: scoial media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

1 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments