Kolkata

’مرکزی ایجنسیوں کو انتخابی عمل میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں‘، آئی پیک معاملہ پر سپریم کورٹ کا حکم

’مرکزی ایجنسیوں کو انتخابی عمل میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں‘، آئی پیک معاملہ پر سپریم کورٹ کا حکم

کولکاتہ میں ’آئی پیک‘ کے خلاف ہوئی ریڈ کے بعد شروع ہوئے تنازعہ معاملہ میں جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ ای ڈی کی عرضی پر سماعت کر رہے سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں دونوں فریقوں کو آئینہ دکھایا۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی ایجنسیوں کو کسی بھی پارٹی کے انتخابی عمل میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے لیکن وہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مرکزی ایجنسیوں کی تحقیقات میں ریاستی حکومت یا پولیس کی مداخلت پر بھی عدالت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ ایک ریاست کی ایجنسی یا پولیس کو اس طرح کی سرگرمی کو انجام دینے کی چھوٹ نہیں دی جا سکتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے عدالت نے ممتا حکومت اور بنگال پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ای ڈی افسران کے خلاف دائر کردہ بنگال پولیس کی ایف آئی آر پر بھی آئندہ سماعت تک روک لگا دی گئی ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت کی تاریخ 3 فروری طے کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال حکومت اور پولیس کو تمام سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر ڈیوائسز اور دستاویز محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سماعت کے دوران ای ڈی کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشار مہتا اور بنگال حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل کے درمیان تلخ بحث ہوئی۔ سالیسٹر جنرل نے ممتا بنرجی پر فائلیں چوری کرنے کا الزام عائد کیا تو سبل نے سوال کیا کہ انتخاب سے قبل ای ڈی ’آئی پیک‘ کیوں گئی؟ ADVERTISEMENT جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس وِپل پنچولی کی بنچ نے ای ڈی کی جانب سے داخل عرضی پر سماعت کی۔ ای ڈی کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ یہ بہت ہی چونکانے والا معاملہ ہے۔ وزیر اعلیٰ خود پہنچ گئیں، چہاں چھاپہ پڑا۔ وہاں تحقیقات میں رکاوٹ ڈالا۔ ریاستی پولیس نے سیاسی ممبران کے طریقے سے کام کیا۔ پی ایم ایل اے کی دفعہ 17 کے تحت ای ڈی کی جانب سے کارروائی کی جا رہی تھی۔ اس عمل کو قصداً متاثر کیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ ایک حیران کن رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ جب کوئی قانونی ادارہ اپنے فرائض انجام دے رہا ہوتا ہے تو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی دخل دیتی ہیں، پولیس کمشنر ان کے ساتھ آتے ہیں اور پھر احتجاج کرتی ہیں۔ سالیسٹر جنرل نے کہا کہ ای ڈی کے افسران نے مقامی پولیس کو اطلاع دی اور پی ایم ایل اے کی دفعہ 17 کے تحت کارروائی کی۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تمام فائلیں ضبط کر لیں، یہ چوری ہے۔ انہوں نے ایک ای ڈی افسر کا فون بھی لے لیا۔ اس سے ایسے کاموں کو شہ ملے گی اور مرکزی فورسز کے حوصلے پست ہوں گے۔ ریاستی حکومت کو لگتا ہے کہ وہ دراندازی کر چوری کر سکتی ہے اور پھر احتجاج کر سکتی ہے۔ ایک مثال قائم کی جائے جو افسران وہاں واضح طور پر موجود تھے انہیں معطل کیا جائے۔ اس پر جسٹس مشرا نے کہا کہ کیا ہمیں انہیں معطل کر دینا چاہیے؟ اس کے جواب میں سالیسٹر جنرل نے کہا کہ مجاز اتھارٹی کو کارروائی کی ہدایت دیں۔ براہ کرم معاملے کا نوٹس لیں۔ ADVERTISEMENT بنگال حکومت کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ مغربی بنگال میں انتخاب کی ذمہ داری آئی پیک کے پاس ہے۔ پارٹی نے 2021 میں آئی پیک کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کیا تھا۔ ہمارا خیال ہے ای ڈی کو اس کا علم ہے۔ جسٹس مشرا نے کہا کہ مغربی بنگال میں انتخاب آئی پیک کے ذریعہ کرائے جاتے ہیں یا الیکشن کمیشن کے ذریعہ؟ سبل نے کہا کہ آئی پیک کے پاس کئی طرح کے ڈیٹا رکھے جاتے ہیں۔ جب وہ وہاں گئے تو انہیں معلوم تھا کہ پارٹی سے متعلق کئی ڈیٹا وہاں موجود ہوں گے۔ انتخاب کے درمیان وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی؟ کوئلہ گھوٹالہ میں آخری بیان 24 فروری 2024 کو درج کیا گیا تھا، تب سے وہ کیا کر رہے تھے؟ سبل نے سوال کیا کہ اگر آپ کو جانکاری مل گئی تو ہم انتخاب کیسے لڑیں گے؟ ای ڈی کو پارٹی دفتر کے اس حصے میں کیوں جانا چاہیے جہاں تمام معلومات موجود ہیں؟ سبل نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ تمام سامان ضبط کرنے کے متعلق الزام بھی جھوٹا ہے۔ یہ ان کے اپنے پنچنامے سے ثابت ہے۔ یہ صرف تعصب پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ریاست اور ڈی جی پی کی جانب سے سنگھوی نے کہا کہ ہمیں اس عرضی کو قبول کرنے پر سخت اعتراض ہے۔ یہ نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے تو یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ یہ ہمارے قابل قبول اعتراض سے مشروط ہے۔ ای ڈی کو صرف غیر معمولی حالات میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ جہاں عملی طور پر کوئی دوسرا راستہ نہ ہو۔ میں ’فورم شاپنگ‘ کی بھی مخالفت کرتا ہوں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments