Kolkata

ایم پی منیکا گرو سوامی ایس آئی آر سے متعلق سوالات پر چیف جسٹس بھڑک گئے

ایم پی منیکا گرو سوامی ایس آئی آر سے متعلق سوالات پر چیف جسٹس بھڑک گئے

کولکاتا10مارچ : ایس آئی آر کے عمل سے متعلق ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا رکن اور معروف وکیل مینکا گرو سوامی کی جانب سے دائر پیشگی درخواست پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے بنچ میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس مینکا گرو سوامی کی اس درخواست پر شدید برہم نظر آئے۔ انہوں نے مینکا کو واضح الفاظ میں ہدایت دی کہ "نظام پر بھروسہ رکھیں۔" زیرِ غور ووٹرز کے مستقبل کے حوالے سے چیف جسٹس نے صاف کیا کہ "ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اطلاع دی ہے کہ 10 لاکھ ووٹرز کا کام مکمل ہو چکا ہے۔" اس کے بعد مینکا کو متنبہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا، "جوڈیشل افسران کو کسی بھی قسم کے سوالات کے کٹہرے میں نہ کھڑا کریں، میں یہ بات سختی سے کہہ رہا ہوں۔ جوڈیشل افسران اپنا کام کر رہے ہیں، جو لوگ بھی اصلی ووٹرز ہیں، انہیں فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ ایس آئی آر سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ اسی دوران پیر کو ریاست نے ایک بار پھر عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا تھا۔ مینکا گرو سوامی نے موقف اختیار کیا تھا کہ "ووٹرز کے نام فہرست سے نکال دیے گئے ہیں اور ان کی دستاویزات ریکارڈ نہیں کی گئیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پہلے ووٹ ڈالے ہیں، لیکن اب ان کی دستاویزات قبول نہیں کی جا رہی ہیں۔"واضح رہے کہ ریاست میں تقریباً 60 لاکھ ووٹرز کے نام 'زیرِ غور' ہیں، جن کے مستقبل کا فیصلہ جوڈیشل افسران کے ہاتھ میں ہے۔ ریاست کی تقریباً تمام ضلع عدالتوں کے جج فی الحال ووٹرز کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ تاہم، وقت کی کمی اور دستاویزات کے انبار کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے اوڈیشہ اور جھارکھنڈ سے بھی جوڈیشل افسران کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔ ان دونوں ریاستوں سے مزید 200 افسران بلائے گئے ہیں، جس کے بعد اب کل 505 جوڈیشل افسران اس عظیم کام کو مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔

Source: PC- tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments