Kolkata

موت کے پروانہ کے باوجود شیخ حسینہ بنگلہ دیش جانے کےلئے تیار

موت کے پروانہ کے باوجود شیخ حسینہ بنگلہ دیش جانے کےلئے تیار

موت کے پروانہ کے باوجود شیخ حسینہ بنگلہ دیش جانے کےلئے تیار ملک میں انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ اس کے باوجود بے خوف بنگابندھو کی بیٹی شیخ حسینہ۔ رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کا نڈر اعلان کہ وہ دسمبر ہی میں ملک واپس آئیں گی۔ ان کے ساتھ ان کی پارٹی کے سینئر رہنما بھی ہوں گے۔ وہ خود کو حوالے کریں گی۔ 78 سالہ رہنما نے کہا، "میں جیسے ہی واپس جاوں گی، وہ مجھے گرفتار کر سکتے ہیں، مجھے قتل بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود میں واپس جاوں گی۔ میری پارٹی کی خواتین و مرد رہنما اور کارکن شدید دباو میں ہیں۔ اگر موت آنی ہے تو وہ میرے ملک کی سرزمین پر آئے، جہاں میرے والدین مدفون ہیں، جہاں کی مٹی میں ان کا خون گھلا ہے۔ اس کے ساتھ حسینہ کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا، "جب کوئی حکومت طویل عرصے تک اقتدار میں رہتی ہے تو غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کوئی انتظامیہ غلطیوں سے بالاتر نہیں۔ لیکن اچھے برے، صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری عوام پر ہے۔ میں نے وہ بوجھ عوام پر ہی چھوڑا ہے۔ وہ مجھے مجرم قرار دے سکتے ہیں۔ وہ مجھے انتخابات لڑنے سے بھی روک سکتے ہیں۔ لیکن عوامی لیگ پر پابندی کیوں لگائی جائے؟ اگر ہم نے برا ہی کیا ہے تو عوام ہی اس کا فیصلہ کریں۔ 2024 میں بنگلہ دیش میں کوٹہ مخالف عوامی بغاوت کے نتیجے میں ملک کی طویل ترین مدت تک وزیراعظم رہنے والی رہنما کو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے۔ بنگ بھون چھوڑ کر حسینہ ہوائی راستے دہلی آ گئیں۔ فی الحال وہیں وہ سیاسی پناہ میں ہیں۔ دوسری طرف، حسینہ کے معزول ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں تقریباً ایک سال تک نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت رہی۔ ان کے دور میں بین الاقوامی جرائم ٹربیونل نے نسل کشی کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو سزائے موت کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ اس وقت کے کئی وزرائ کو بھی یہی سزا سنائی گئی۔ یونس کی عبوری حکومت نے عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا تھا۔ چنانچہ 2026 کے عام انتخابات میں لیگ کا کوئی بھی فرد امیدوار نہ بن سکا۔ اگرچہ بنگلہ دیش سے باہر مختلف جگہوں پر عوامی لیگ سرگرم ہے۔ نئی دہلی میں بیٹھ کر مختلف اجلاسوں میں حسینہ کو پارٹی کو سنبھالنے کا جوش دلاتے دیکھا گیا ہے۔ آج بھی انہوں نے کہا کہ انہوں نے آن لائن اجلاسوں کے ذریعے بنگلہ دیش کے 300 پارلیمانی حلقوں میں سے 125 سے رابطہ برقرار رکھا ہے۔ ان کا مقصد عوامی لیگ کو ازسرنو منظم کرنا ہے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments