کولکاتہ، 12 جون: مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے اعلان کیا ہے کہ ریاست بھر میں فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قائم تجاوزات اور غیر قانونی ہاکروں کو ہٹایا جائے گا۔جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کسی مخصوص گروہ کے مفادات کے بجائے عام شہریوں کے حقوق کو ترجیح دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی فرد یا تنظیم کو عوامی سڑکوں پر قبضہ کرنے یا پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا، "فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے ہوتے ہیں اور سڑکوں کو ہر حال میں کھلا رکھا جانا چاہیے ۔ ریاست کے عوام نے مجھے اور میری جماعت کو اقتدار اس لیے دیا ہے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے ۔ کسی کو بھی فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔"وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوامی حقوق کو مقدم رکھا جائے اور ریاست بھر میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات کی اجازت نہ دی جائے ۔انہوں نے کولکاتہ کے معروف تجارتی مرکز نیو مارکیٹ کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہاکروں کو مارکیٹ کے داخلی راستوں پر قبضہ کرنے یا آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ادھیکاری نے کہا، "کسی چھوٹے گروہ کا فائدہ عوامی حقوق سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ نیو مارکیٹ میں دو پہیہ گاڑی کے ذریعے داخل ہونا بھی مشکل ہو گیا ہے ۔" انہوں نے کولکاتہ کے گنجان آباد علاقوں کِڈرپور، میٹیابروز اور راجا بازار میں بھی شہری قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی کے خلاف سخت انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا، "اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ وہ کِڈرپور، میٹیابروز یا راجا بازار میں اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی کر سکتا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بنگال کے عوام نے بہتر طرزِ حکمرانی پر اعتماد کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کو منتخب کیا ہے اور ہم اس عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں گے ۔" تاہم وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ حکومت ضرورت کے تحت خالی سرکاری زمین پر آباد افراد کے ساتھ انسانی ہمدردی پر مبنی رویہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں کوئی بھی کارروائی کرنے سے قبل ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا۔ ادھیکاری نے کہا، "اگر لوگ مجبوری کے تحت خالی سرکاری زمین پر رہ رہے ہیں تو ہم اس مسئلے کو انسانی نقطئہ نظر سے دیکھیں گے ، لیکن فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔"انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت متاثرہ افراد کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی غرض سے مارکیٹ ڈیولپمنٹ اسکیم اور محکمہ شہری ترقیات کے ذریعے مناسب اقدامات کرے گی۔
Source: UNI NEWS
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی