Kolkata

مغربی بنگال میں آئی پی ایس اجے پال شرما کے خلاف شکایت درج، خواتین سے بدسلوکی اور دھمکیوں کے الزامات

مغربی بنگال میں آئی پی ایس اجے پال شرما کے خلاف شکایت درج، خواتین سے بدسلوکی اور دھمکیوں کے الزامات

کولکاتا: مغربی بنگال میں انتخابی ماحول کے درمیان ایک اہم تنازعہ سامنے آیا ہے، جہاں اتر پردیش کیڈر کے آئی پی ایس افسر اجے پال شرما کے خلاف سنگین الزامات کے تحت شکایت درج کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی 24 پرگنہ کے فالٹا علاقے میں رات کے وقت گھروں میں داخل ہو کر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور مقامی افراد کو دھمکایا۔ ذرائع کے مطابق یہ شکایت ایک خاتون کی جانب سے درج کرائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اجے پال شرما اور ان کے ساتھ موجود مرکزی فورس کے اہلکاروں نے بغیر کسی وارنٹ کے گھروں میں گھس کر لوگوں کو خوفزدہ کیا۔ شکایت میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ متاثرہ افراد پر ایک مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں ووٹ دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، جس پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ فالٹا، جنوبی 24 پرگنہ کا ایک اہم اسمبلی حلقہ ہے، جہاں جہانگیر خان انتخابی میدان میں ہیں۔ اس علاقے میں انتخابی نگرانی کے لیے اجے پال شرما کو الیکشن آبزرور کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ وہ 27 اپریل کی رات بھاری سکیورٹی فورس کے ساتھ علاقے میں پہنچے اور مختلف گھروں میں جا کر لوگوں کو دھمکیاں دیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی پولیس نے شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی ابتدائی جانچ شروع کر دی ہے۔ شکایت کنندہ خاتون نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب اس معاملے کو لے کر عدالت کا رخ بھی کیا گیا۔ کلکتہ ہائی کورٹ میں اجے پال شرما کے خلاف ایک عرضی دائر کی گئی، تاہم عدالت نے فوری مداخلت سے انکار کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ 29 اپریل تک اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اجے پال شرما کے بیانات اور طرز عمل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ادھر سیاسی سطح پر بھی اس معاملے نے گرماہٹ پیدا کر دی ہے۔ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے لیڈروں نے اجے پال شرما پر سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی کے لیڈر شانتنو سین نے الزام عائد کیا کہ ان پر ماضی میں بھی کئی سنگین الزامات لگ چکے ہیں، جن میں پولیس پوسٹنگ کے نام پر رشوت لینے اور ذاتی کردار سے متعلق الزامات شامل ہیں۔ شانتنو سین نے کہا کہ ایسے افسر کو بنگال جیسے حساس ریاست میں الیکشن آبزرور مقرر کرنا حیران کن ہے۔ ان کے مطابق بنگال کے عوام ایسی حرکتوں کو برداشت نہیں کریں گے اور اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے۔ اسی معاملے میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی سوشل میڈیا پر اجے پال شرما کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ ایک تقریب کے دوران رقص کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے ان کے کردار پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ بنگال کی سیاست کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل اس طرح کے الزامات نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کرتے ہیں اور فوری، غیر جانبدارانہ تحقیقات نہایت ضروری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شکایت کی مکمل جانچ کی جائے گی اور اگر الزامات درست پائے گئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال اس معاملے نے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments