Kolkata

مغربی بنگال میں انتخابی نتائج کے بعد تشدد، 4 افراد ہلاک، 400 سے زائد ٹی ایم سی دفاتر میں توڑ پھوڑ اور حملے

مغربی بنگال میں انتخابی نتائج کے بعد تشدد، 4 افراد ہلاک، 400 سے زائد ٹی ایم سی دفاتر میں توڑ پھوڑ اور حملے

کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے فوراً بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 400 سے زائد مقامات پر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے دفاتر میں توڑ پھوڑ اور حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی سخت کر دی ہے اور متعدد حساس علاقوں میں اضافی فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 4 مئی سے اب تک ریاست کے درجنوں مقامات پر انتخابی نتائج سے متعلق جھڑپیں اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو ان واقعات کی تفصیلی تحقیقات کرے گی اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق آسن سول کے گودھولی علاقے میں ٹی ایم سی کے ایک دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی، جبکہ ہاوڑہ کے دمرجالا علاقے میں واقع ایک اور دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ٹالی گنج، قصبہ، بروئی پور، کمرہاٹی، بارانگر، ہاوڑہ اور بہرام پور میں بھی ٹی ایم سی دفاتر پر حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں میں نہ صرف پارٹی دفاتر کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ کئی مقامات پر آگ زنی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق تشدد کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نشانہ بنے ہیں۔ کولکاتا کے نیو ٹاؤن علاقے میں ایک بی جے پی کارکن مدھو منڈل کی موت اس وقت ہو گئی جب مبینہ طور پر ٹی ایم سی کارکنان نے ایک فتح جلوس کے دوران ان پر حملہ کیا۔ دوسری جانب بیر بھوم کے نانور علاقے میں ایک ٹی ایم سی کارکن ابیر شیخ کو مبینہ طور پر بی جے پی کارکنان نے تیز دھار ہتھیار سے قتل کر دیا۔ اس کے علاوہ دیگر دو مقامات پر بھی سیاسی کارکنان کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ سندیش کھالی کے علاقے میں بھی کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب پولیس اور مرکزی سکیورٹی فورسز کی ٹیم گشت کے لیے پہنچی۔ حکام کے مطابق کچھ شرپسند عناصر نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ادھر آسن سول کے کورٹ موڑ علاقے میں واقع ٹی ایم سی کے ایک دفتر میں آگ لگنے کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ آگ لگنے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، تاہم پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ بھی انتخابی کشیدگی سے جڑا ہو سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی بنگال میں اس بار کے انتخابی نتائج غیر معمولی رہے ہیں، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے پہلی بار واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے 207 نشستوں پر کامیابی درج کی ہے۔ ریاستی اسمبلی کی کل 294 نشستوں میں سے ایک نشست پر ابھی دوبارہ ووٹنگ ہونا باقی ہے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس صرف 80 نشستوں تک محدود ہو گئی ہے، جو اس کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی اپنی روایتی نشست بھی برقرار نہیں رکھ سکیں اور انہیں بھوانی پور میں سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی کے امیدوار شوبھندو ادھیکاری نے انہیں 15 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی، جس کے بعد پارٹی کے اندر بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ریاست میں نئی حکومت کی حلف برداری 9 مئی کو متوقع ہے، تاہم موجودہ حالات نے انتظامیہ کے لیے چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی حلقوں میں بھی امن و امان کی صورتحال پر خدشات پائے جا رہے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments