نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسو ریویژن کے دوران ’لاجیکل ڈسکریپنسیز‘ کے زمرے میں شامل ووٹروں کے نام عوام کے لیے ظاہر کیے جائیں۔ عدالت نے یہ حکم ان درخواستوں پر سماعت کے دوران دیا جن میں ایس آئی آر عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔ لاجیکل ڈسکریپنسیز سے مراد کسی ریکارڈ، ڈیٹا یا دستاویز میں پائی جانے والی ایسی غیر منطقی، متضاد یا ناممکن صورتحال ہوتی ہے جو عام عقل اور مقررہ اصولوں کے مطابق درست نہیں لگتی، مگر وہ ضروری نہیں کہ جان بوجھ کر کی گئی غلطی یا جعل سازی ہو۔ انتخابی فہرست کے تناظر میں انتخابی عمل اور ووٹر لسٹ میں لاجیکل ڈسکریپنسیز کا مطلب ایسے اندراجات سے ہوتا ہے جن میں معلومات آپس میں مطابقت نہیں رکھتیں، مثلاً: ایک ہی ووٹر کا نام دو مختلف حلقوں میں درج ہونا ووٹر کی عمر غیر منطقی ہونا (مثلاً 18 سال سے کم یا غیر معمولی طور پر زیادہ) تاریخِ پیدائش اور عمر میں تضاد ایک ہی پتے پر غیر معمولی تعداد میں ووٹروں کا اندراج رشتہ داری یا خاندانی معلومات کا ریکارڈ سے میل نہ کھانا انتقال شدہ شخص کا نام ووٹر لسٹ میں موجود ہونا ایسی صورتحال میں الیکشن کمیشن ان ووٹروں کو ’’لاجیکل ڈسکریپنسیز‘‘ کے زمرے میں رکھتا ہے تاکہ ان کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ ’’لاجیکل ڈسکریپنسیز‘‘ کا مطلب ووٹ منسوخ ہونا نہیں ہے۔ بلکہ متعلقہ ووٹر کو نوٹس دیا جاتا ہے، وضاحت یا دستاویزات پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اور تصدیق کے بعد نام برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت والی تین رکنی بنچ نے نوٹ کیا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی بعض افراد کو ’لاجیکل ڈسکریپنسیز‘ کے تحت نوٹس جاری کیے ہیں۔ عدالت نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حکم دیا کہ ایسے تمام افراد کے نام گرام پنچایت بھون، بلاک دفاتر اور وارڈ دفاتر میں نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں تاکہ متعلقہ ووٹرز کو بروقت اطلاع مل سکے۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ الیکشن کمیشن اور اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو مناسب افرادی قوت فراہم کرے تاکہ متاثرہ افراد کی دستاویزات اور اعتراضات کو درست طریقے سے قبول کیا جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ اس مقصد کے لیے مجاز افسران کو اتھارٹی لیٹر جاری کیے جائیں اور مکمل سماعتی عمل کی پابندی کی جائے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ جن افراد نے اب تک اپنے دعوے یا اعتراضات داخل نہیں کیے ہیں، انہیں 10 دن کے اندر ایسا کرنے کی اجازت دی جائے۔ نوٹس اور دستاویزات گرام پنچایت بھون میں جمع کرائے جا سکیں گے، جس کے لیے الیکشن کمیشن ضروری ہدایات جاری کرے گا۔ سماعت کا حق اور قانون و نظم برقرار رکھنے کی ہدایت سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جہاں اعتراضات درست پائے جائیں، وہاں متاثرہ افراد کو الیکشن کمیشن کے مقررہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) کے مطابق سماعت کا موقع دیا جائے۔ یہ سماعت دستاویزات جمع کرانے کے وقت بھی کی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی مغربی بنگال کے ڈی جی پی کو ہدایت دی گئی کہ پورے عمل کے دوران امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھی جائے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ERONET پورٹل نے ’لاجیکل ڈسکریپنسیز‘ کے تحت 1.2 کروڑ سے زائد ناموں کی نشاندہی کی ہے، جس کے بعد اس عمل پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔ وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے اس زمرے کو ’مشکوک‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ امرتیہ سین کا نام بھی شامل دلچسپ بات یہ ہے کہ نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات امرتیہ سین کا نام بھی ’لاجیکل ڈسکریپنسی‘ کے زمرے میں شامل پایا گیا۔ الیکشن حکام کے مطابق، ان کی عمر اور ان کی والدہ امیتا سین کی عمر کے فرق میں 15 سال سے کم کا فرق ریکارڈ ہوا، جس کی بنیاد پر پورٹل نے اعتراض درج کیا۔ واضح رہے کہ دعوؤں اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 15 جنوری سے بڑھا کر 19 جنوری 2026 کر دی گئی تھی، جبکہ ان پر سماعت کا عمل 7 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔ مغربی بنگال کی حتمی ووٹر فہرست 14 فروری 2026 کو شائع کی جائے گی۔
Source: social media
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی