Kolkata

مغربی بنگال اسمبلی میں او بی سی   ریزرویشن ترمیمی بل پیش، اپوزیشن اور حکومت میں تیکھی بحث

مغربی بنگال اسمبلی میں او بی سی ریزرویشن ترمیمی بل پیش، اپوزیشن اور حکومت میں تیکھی بحث

مغربی بنگال کی نئی حکومت نے ماضی کی بائیں محاذ اور ترنمول کانگریس حکومتوں کے فیصلوں کو بدلنے کے لیے اسمبلی میں دو اہم او بی سی ترمیمی بل پیش کر دیے ہیں۔ ان بلوں کے نام 'دی ویسٹ بنگال بیک ورڈ کلاسز ریزرویشن آف ویکینسیز ان سروسز اینڈ پوسٹس ترمیمی بل، 2026' اور 'ویسٹ بنگال بیک ورڈ کلاسز کمیشن ترمیمی بل، 2026' ہیں۔ یہ بل پسماندہ طبقات کی بہبود کے وزیر گوری شنکر گھوش نے ایوان میں پیش کیے۔ موجودہ قانون کے تحت او بی سی ریزرویشن کے زمرے (Category A) میں 65 برادریاں اور زمرے (Category B) میں 78 برادریاں شامل تھیں۔ نئے بل کے ذریعے ان فہرستوں پر مشتمل پرانے 'شیڈول ون' کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اب پسماندہ طبقات کمیشن میں کسی بھی نئی برادری کے نام کو شامل کرنے یا فہرست سے نکالنے پر عوام کو اعتراض درج کرانے کا قانونی موقع بھی دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال میں او بی سی ریزرویشن کی شروعات بائیں محاذ (لیفٹ فرنٹ) کی حکومت نے رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے بعد کی تھی۔ اس وقت برادریوں کے پسماندہ پن کو دیکھتے ہوئے دو زمرے بنائے گئے تھے جنہیں بالترتیب 10 فیصد اور 7 فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا۔ بعد میں 2012 میں ممتا بنرجی کی حکومت نے اس قانون میں ترمیم کر کے مزید برادریوں کو شامل کیا، جس میں درج فہرست ذات کے عیسائیوں کو بھی کیٹیگری بی میں جگہ دی گئی تھی۔ بی جے پی کا ہمیشہ سے یہ الزام رہا ہے کہ ترنمول حکومت نے صرف ووٹ بینک کی سیاست کے لیے قواعد کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کو او بی سی فہرست میں شامل کیا اور ہندوؤں کو اس کے فائدے سے محروم رکھا۔ اسی دوران کلکتہ ہائی کورٹ میں مبینہ جعلی او بی سی سرٹیفکیٹس کے خلاف ایک مقدمہ دائر ہوا تھا، جس کے بعد عدالت نے ترنمول دور میں جاری کئی سرٹیفکیٹس منسوخ کر دیے تھے۔ آج اسمبلی میں بل پر بحث کے دوران جے نگر سے ایم ایل اے بشواناتھ داس نے کہا "ماضی میں صرف ایک مخصوص طبقے کو خوش کرنے کے لیے فیصلے کیے گئے۔ ہم ان پرانی غلطیوں کو درست کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں ترمیمی بل اس لیے لائے گئے ہیں تاکہ حقیقی پسماندہ طبقات کو ان کا حق ملے اور وہ محروم نہ رہیں۔" دوسری طرف، بھانگڑ سے آئی ایس ایف کے ایم ایل اے نوشاد صدیقی نے اس بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا: "اس بل کی کوئی سائنسی یا منطقی بنیاد نہیں ہے، بلکہ یہ صرف ایک سیاسی ہتھیار ہے۔ اس سے پسماندہ طبقات کے درمیان دوریاں بڑھیں گی۔ ریزرویشن کا فیصلہ لوگوں کی سماجی اور اقتصادی حالت کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے۔" اسی طرح جلنگی سے ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے بابر علی نے بھی اس ترمیمی بل کی ضرورت اور مقصد پر سوال اٹھائے۔ بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر گوری شنکر گھوش نے کہا "پچھلی حکومت نے صرف سیاسی فائدے کے لیے 113 اضافی ذاتوں کو اس فہرست میں شامل کر دیا تھا اور قوانین کی پرواہ نہیں کی گئی۔ ہم یہ نیا قانون کلکتہ ہائی کورٹ کے تاریخی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اور اس کے احکامات کے مطابق لا رہے ہیں تاکہ نظام میں شفافیت پیدا کی جا سکے۔"

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments