کولکتہ: وہ 20 سال پہلے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ تب سے وہ اپنے خاندان اور بیٹے سے دور تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یادداشت بھی کمزور ہو گئی اور ان کی زندگی کے کئی سال ایک اولڈ ایج ہوم (آشرم) میں گزرے۔ تقریباً دو دہائیوں بعد بیٹے سے دوبارہ رابطہ ہوا، تو گھر واپسی کی خوشی میں ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، لیکن بیٹے نے ماں کو گھر لے جانے کے بجائے ایک سخت شرط رکھ دی۔ بیٹے کا کہنا ہے کہ ماں کو پہلے اپنا مذہب تبدیل کرنا ہوگا، تبھی وہ اسے اپنے پاس رکھے گا۔ کولکتہ کے ایک ہوم میں پناہ گزین 62 سالہ سشیلا مرمو کا یہ واقعہ سامنے آتے ہی ہر طرف ہلچل مچ گئی ہے۔ 'ٹائمز آف انڈیا' کی رپورٹ کے مطابق، سشیلا مرمو جھارکھنڈ کی رہنے والی ہیں۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے ہی ایک ہندو نوجوان سے شادی کی تھی، لیکن سشیلا دیوی شادی سے پہلے ہی عیسائی مذہب اختیار کر چکی تھیں۔ شادی کے بعد زندگی اچھی گزر رہی تھی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہوا۔ تاہم، شوہر کی موت کے بعد سب کچھ بکھر گیا۔ الزام ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد گاوں والوں نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ عیسائی تھیں۔ گاوں والوں کا کہنا تھا کہ دوسرے مذہب کی خاتون ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ اس واقعے کے بعد سشیلا دیوی لاپتہ ہو گئیں۔ وقت کے ساتھ سشیلا دیوی کی یادداشت چلی گئی اور انہیں یہ یاد نہیں کہ وہ کولکتہ کیسے پہنچیں۔ 2001 میں مشنریز آف چیریٹی کے ایک رکن نے انہیں ڈھونڈا اور ایک ہوم میں داخل کرا دیا۔ برسوں تک وہی ہوم ان کا ٹھکانہ رہا، اگرچہ وہ اکثر اپنے مرحوم شوہر اور خاندان کو یاد کرتی تھیں۔ آخرکار ان کی کہانی ہوم کے ایک ملازم کے ذریعے ایک ریڈیو آپریٹر تک پہنچی، جس کے بعد ریڈیو کلب کے ایک رکن نے ان کی تصویر شیئر کی۔ یہ خبر جھارکھنڈ کے گاوں داہو پاگڑ تک پہنچی، جہاں ان کا بیٹا رہتا ہے۔ تقریباً 20-25 سال بعد بیٹے نے اپنی ماں کو ڈھونڈ لیا۔ پہلی بار ویڈیو کال پر ماں بیٹے کی بات ہوئی، لیکن اس ملاپ کی راہ میں مذہب دیوار بن گیا۔ بیٹے نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اگر وہ خاندان میں واپس آنا چاہتی ہیں، تو انہیں ہندو مذہب قبول کرنا ہوگا۔ ماں بیٹے کا یہ مطالبہ تسلیم نہ کر سکی۔ سشیلا دیوی نے دو ٹوک جواب دیا، "میں اپنا مذہب نہیں چھوڑ سکتی۔ یہی میرا آخری جواب ہے۔"فی الحال سشیلا مرمو کولکتہ کے اسی ہوم میں مقیم ہیں جہاں وہ گزشتہ 20 سالوں سے رہ رہی ہیں، لیکن انہوں نے خاندان میں واپسی کی امید چھوڑ دی ہے۔ مقامی تھانے کے انچارج مہابیر پنڈت نے بتایا کہ وہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے گاوں جائیں گے اور بیٹے سے بات کریں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ماں کو بیٹے سے ملوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Source: PC- tv9bangla
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی