کلکتہ : ملک کو جنگ کی گرمی میں ایندھن گیس کے بحران کا سامنا ہے۔ اس کا اثر بنگال کے دور دراز تک بھی محسوس ہوا ہے۔ ایل پی جی کے مسئلہ کی وجہ سے کچھ جگہوں پر کھانا پکانا بند ہونے کے دہانے پر ہے۔ کئی ہوٹل اور ریستوراں بند ہو رہے ہیں۔ ایندھن کے مسئلہ سے سڑکوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں میں مسافروں کو پہلے ہی اضافی کرایہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوام کی حالت زار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف مقامات پر گیس کی بلیک مارکیٹنگ شروع کر دی گئی ہے۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بدھ کو اس سلسلے میں سخت چوکسی کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد کھانا پکانے کی گیس کی بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے میدان میں لالبازار قائم کیا گیا۔ شہر کے ہر پولیس اسٹیشن کو سخت چوکسی رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ متبادل ایندھن یعنی انڈکشن اور مائیکرو ویو اوون کو پولیس بیرکوں میں استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ کولکاتہ میں گیس بحران سے بچنے کے لیے بلیک مارکیٹنگ کو روکنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں لالبازار نے ہر ڈویڑن کے ڈی سی کو خبردار کیا ہے۔ ڈویڑن کے ڈی سیز نے اپنے دائرہ اختیار کے تھانوں کو بھی کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کلکتہ پولیس کی انفورسمنٹ برانچ کے افسران نے بھی نگرانی شروع کر دی ہے۔ پولیس کی توجہ شہر میں گیس سلنڈر کے گوداموں پر ہے۔ افسران گیس سلنڈروں کا سٹاک چیک کر رہے ہیں۔ پولیس اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا صارفین کے حکم پر گیس سلنڈر باہر اسمگل کیے جارہے ہیں یا زیادہ قیمتوں پر باہر فروخت کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس افسران اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کہیں گھر میں استعمال ہونے والی کھانا پکانے والی گیس کسی تجارتی مقصد کے لیے استعمال تو نہیں ہو رہی۔ پولیس نے انتباہ بھی کیا ہے کہ اگر کوئی غیر قانونی طور پر گیس سلنڈر ذخیرہ کرے گا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔اس سے قبل شہر میں پولیس افسران کو کچھ ایسے گروہ ملے تھے جو اپنے طریقے سے کھانا پکانے کے گیس سلنڈروں سے گیس نکال کر چھوٹے سلنڈروں میں بھر کر فروخت کر رہے تھے۔ بعض اوقات اسے نقل و حمل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس ایسے گروہوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ پولیس بیرکوں کو بھی نگرانی میں رکھا جا رہا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ گیس کی قلت سے بچنے کے لیے متبادل ایندھن استعمال کریں۔
Source: Social Media
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی