Kolkata

کیا میانمار جیسی تباہی کولکاتا شہر میں بھی آ سکتی ہے؟

کیا میانمار جیسی تباہی کولکاتا شہر میں بھی آ سکتی ہے؟

کولکاتا27فروری :سوکمار رائے کی مشہور کہانی 'ہجبرلو کی بلی نے کہا تھا: "اگر گرمی لگتی ہے تو تبت چلے جاو!" اس نے سوا گھنٹے کا سیدھا راستہ بھی بتایا تھا— کولکتہ، ڈائمنڈ ہاربر، رانا گھاٹ، تبت۔ ماہرینِ ارضیات بھی تقریباً اسی طرح کے ایک راستے کا پتہ دے رہے ہیں— کولکتہ، راجرہاٹ، رانا گھاٹ، شیلانگ۔ یہ راستہ تبت نہ سہی، لیکن ایک سرد ملک کی طرف ضرور جا رہا ہے، مگر یہ راستہ زمین کی تہوں میں موجود ایک بہت بڑی دراڑ سے جا ملتا ہے۔ چلچلاتی گرمی میں اس راستے پر چل کر تپش سے نجات ملے گی یا نہیں، یہ کہنا مشکل ہے، لیکن ماہرینِ ارضیات کے درمیان اس بات پر کوئی دو رائے نہیں کہ اس راستے سے کولکتہ کی طرف میانمار جیسا خطرہ ضرور بڑھ سکتا ہے۔واضح رہے کہ 25 فروری 2025 کی صبح خلیج بنگال میں ایک زلزلے نے جنم لیا تھا۔ اس کا مرکز سطح سمندر سے 91 کلومیٹر گہرائی میں تھا، جو کولکتہ سے 330 کلومیٹر اور اوڈیشہ کے پارادیپ سے 220 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔میانمار اور تھائی لینڈ میں حال ہی میں آنے والے زلزلے کا مرکز میانمار کے شہر مانڈلے کے نیچے تھا۔ ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ مانڈلے کے نیچے زمین کی تہوں میں 'ساگینگ فالٹ' نامی ایک طویل دراڑ یا 'انشقاقی لکیر' موجود ہے، جہاں سے یہ لرزہ اٹھا ہے۔ زمین کی تہوں میں موجود یہ دراڑیں یا کمزور حصے ہی عام طور پر زلزلوں کو جنم دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ ارضیات کولکتہ شہر کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ کولکتہ کا محل وقوع بھی بالکل اسی طرح کی ایک ارضیاتی لکیر کے اوپر ہے۔ یہ لکیر محض ایک دراڑ نہیں، بلکہ براعظموں کی پلیٹوں کے ٹوٹنے کی لکیر ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس کی گہرائی میں بڑی دراڑیں موجود ہو سکتی ہیں۔ اگر دراڑیں نہ بھی ہوں، تب بھی ارضیاتی مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے سے زلزلے کا شدید خطرہ برقرار ہے۔

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments