Kolkata

کیا مجھے مار کر بنگال جیتنا چاہتے ہیں؟ ڈی سی پی کے گھر پر ای ڈی کی کارروائی سے ممتا برہم، بی جے پی پر سخت حملہ

کیا مجھے مار کر بنگال جیتنا چاہتے ہیں؟ ڈی سی پی کے گھر پر ای ڈی کی کارروائی سے ممتا برہم، بی جے پی پر سخت حملہ

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی اور مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں پر سخت حملہ کرتے ہوئے اپنی سکیورٹی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ کولکاتا پولیس کے ڈپٹی کمشنر شانتنو سنہا کے گھر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی چھاپہ ماری کے بعد ممتا بنرجی نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ انہیں نشانہ بنا کر بنگال میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اتوار کو تارکیشور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ جس افسر کی ذمہ داری ان کی سکیورٹی دیکھنا ہے، اسی کے گھر پر مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”آپ کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ مجھے ختم کر کے بنگال جیتنا چاہتے ہیں؟“ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی انہیں نقصان پہنچا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ان پر حملے کی کئی کوششیں ہو چکی ہیں، خاص طور پر بائیں بازو کی حکومت کے دور میں، اور اب وہی طاقتیں ایک بار پھر متحرک نظر آ رہی ہیں۔ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ موجودہ سیاسی حالات میں مرکزی ایجنسیاں دباؤ ڈالنے اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے قریبی افراد اور پارٹی سے وابستہ لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص ان کے ٹیکس معاملات دیکھتا ہے، اس کے گھر پر بھی ای ڈی نے چھاپہ مارا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے امیدوار دیباشیش کمار کو 16 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا اور انہیں انتخابی مہم چلانے سے روکا گیا، جو جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ ممتا بنرجی نے اس موقع پر خواتین ریزرویشن بل کے معاملے پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے اسے سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔ ممتا نے واضح کیا کہ ترنمول کانگریس ہمیشہ خواتین کی سیاسی نمائندگی کی حامی رہی ہے اور اس کی مثال پارٹی میں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں ان کی پارٹی کے منتخب اراکین میں تقریباً 37.9 فیصد خواتین ہیں، جبکہ راجیہ سبھا میں پارٹی نے 46 فیصد خواتین کو نامزد کیا ہے۔ ان کے مطابق خواتین ریزرویشن کی مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی پارٹی نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ ان کی اصل مخالفت حد بندی (ڈیلِمیٹیشن) کے معاملے پر ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی خواتین کے نام پر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے اور حد بندی کے ذریعے انتخابی نقشہ اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ ممتا بنرجی کے مطابق ان کی پارٹی اس طرح کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی خواتین کے حق میں سنجیدہ تھی تو خواتین ریزرویشن بل کی منظوری کے بعد اسے نافذ کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ انتخابات کے دوران ہی اسے جلدی میں کیوں لایا گیا اور اس کے ساتھ حد بندی کو کیوں جوڑا گیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی کے یہ بیانات انتخابی ماحول میں مزید شدت پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک طرف بی جے پی اور مرکزی قیادت بنگال میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری جانب ٹی ایم سی اس طرح کے الزامات کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اب سب کی نظریں آنے والے انتخابی مرحلے پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ عوام ان سیاسی الزامات اور دعوؤں کے درمیان کس پر اعتماد کرتے ہیں۔

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments