Kolkata

کیا آپ جانتے تھے کہ کالی گھاٹ سے فلتا کے درمیان ایک خصوصی ٹرین چلتی تھی؟

کیا آپ جانتے تھے کہ کالی گھاٹ سے فلتا کے درمیان ایک خصوصی ٹرین چلتی تھی؟

کولکتہ کے بیہالا کا ایک مصروف ترین اور معروف ترین راستہ 'جیمز لانگ سرانی' ہے۔ ہر روز ہزاروں گاڑیوں، ٹراموں اور لوگوں کے شور و غل سے گونجنے والی اس شاہراہ کی تارکول (پچ) کی تہہ کے نیچے بنگال کی ایک صدی پرانی شاندار نقل و حمل کی تاریخ دبی ہوئی ہے، جس سے آج شاید بہت سے لوگ ناواقف ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں، جنوبی 24 پرگنہ کے پسماندہ علاقوں کو کولکتہ سے جوڑنے کے مقصد سے جو دور اندیش ٹرانسپورٹ نظام تیار کیا گیا تھا، 'کالی گھاٹ-فلتا ریلوے' یا مختصراً 'کے ایف آر' اس کی ایک زندہ دستاویز تھی۔ آج یہ صرف تاریخ کے صفحات تک ہی محدود ہے۔ لندن کی 'میکلیوڈ رسل اینڈ کمپنی لمیٹڈ' کی ذیلی کمپنی 'میکلیوڈ اینڈ کمپنی' نے بیسویں صدی کے آغاز میں بنگال کی دھرتی پر چار نیرو گیج (چھوٹی لائن) ریل لائنیں بچھائی تھیں۔ کولکتہ شہر اور اس کے آس پاس کے دیہی علاقوں کے اقتصادی اور سماجی رابطے کے نظام کو فروغ دینا ہی اس ریل نیٹ ورک کا بنیادی مقصد تھا۔ 'میکلیوڈ لائٹ ریلوے' نامی کمپنی کے تحت اس KFR کے علاوہ احمد پور-کاٹوا، بردھوان-کاٹوا اور بانکڑا-دامودر لائنوں پر بھی ٹرینیں چلتی تھیں۔ اس دور میں یہ چھوٹی لائن کی ٹرینیں دیہی عوام کے لیے کسی لائف لائن سے کم نہیں تھیں۔ یہ 1917 کی بات ہے، اور تاریخ تھی 28 مئی۔ تقریباً 26.95 میل طویل کالی گھاٹ-فلتا ریلوے لائن کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ ابتدائی دنوں میں یہ ٹرین بیہالا کے گھولشا پور سے فلتا تک چلتی تھی۔ بعد میں کولکتہ کے مرکزی علاقے کے ساتھ رابطے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ماجھرہاٹ تک مزید 0.92 میل کا راستہ بڑھایا گیا، جس کا افتتاح 7 مئی 1920 کو ہوا تھا۔ جب محض 2 فٹ 6 انچ چوڑی (2’6” نیرو گیج) اس ریل پٹری پر 'کو-جھک-جھک' کی آواز کے ساتھ چھوٹی چھوٹی ٹرینیں دوڑتی تھیں، تو اسے دیکھنے کے لیے دونوں طرف لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا تھا۔

Source: PC-tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments