Kolkata

کس کاغذ کو شہریت کےلئے تسلیمکیا جائے گا

کس کاغذ کو شہریت کےلئے تسلیمکیا جائے گا

آدھار، پین، ووٹر شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، بینک پاس بک، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، جائیداد کے کاغذات وغیرہ شہریت کا مستقل ثبوت نہیں ہیں پاسپورٹ ایکٹ 1967 کے تحت غیر شہریوں کو بھی پاسپورٹ جاری کیے جا سکتے ہیں (جیسے بھارت کے بیرونی شہری، بھارتی نڑاد افراد، یا بعض صورتوں میں غیر ملکی شہری بھی)۔ لہٰذا پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہے – یہ شناخت اور قومیت کا بنیادی ثبوت ہے، لیکن اسے رد کیا جا سکتا ہے۔ شہریت ایکٹ 1955 اور شہریت قوانین 2009 اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ شہری کون ہے۔ شہریت پیدائش، نسب، رجسٹریشن، نیچرلائزیشن، یا علاقے کے الحاق کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ قانون میں کسی ایک دستاویز کو "ثبوت" کے طور پر درج نہیں کیا گیا ہے؛ اس کے بجائے، دستاویزات کا ایک مجموعہ (پیدائش کا سرٹیفکیٹ، والدین کی شہریت، وغیرہ) استعمال کیا جاتا ہے۔عدالتوں نے کہا ہے کہ آدھار، پین، ووٹر شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، بینک پاس بک، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، جائیداد کے کاغذات وغیرہ شہریت کا مستقل ثبوت نہیں ہیں – یہ رہائش یا شناخت کے ثبوت ہیں، شہریت کی حیثیت کے نہیں۔ پیدائش کا سرٹیفکیٹ عام طور پر بھارت میں پیدائش کا ثبوت ہے، لیکن پیدائشی شہریت کے لیے قانون کے مطابق 26 جنوری 1950 کو یا اس کے بعد بھارت میں پیدائش درکار ہے، جس میں 1987 اور 2004 کے بعد شرائط ہیں۔ لہٰذا پیدائش کا سرٹیفکیٹ اکیلے تمام صورتوں میں شہریت ثابت نہیں کر سکتا۔اگر حکومت آپ سے شہریت ثابت کرنے کو کہے (مثال کے طور پر NRC یا کسی سرکاری عمل کے دوران)، تو آپ عام طور پر پیش کریں گےَآپ کا اپنا پیدائش کا سرٹیفکیٹ (اگر آپ 1 جولائی 1987 سے پہلے پیدا ہوئے ہیں تو یہ پیدائشی شہریت کا ثبوت سمجھا جاتا ہے)۔آپ کے والدین کی شہریت کے دستاویزات (اگر آپ اس تاریخ کے بعد پیدا ہوئے ہیں)۔رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کے سرٹیفکیٹ (اگر قابل اطلاق ہوں)۔طویل مدتی رہائش، خاندانی تاریخ، اسکول کے ریکارڈ وغیرہ دکھانے والی دستاویزات کا مجموعہ۔حکومت نے ابھی تک ایک واحد لازمی دستاویز کا نوٹیفکیشن نہیں کیا ہے – انہوں نے کہا ہے کہ وہ قابل قبول دستاویزات کی فہرست پر فیصلہ کریں گے (جیسا کہ 2019 کی PIB وضاحت میں کہا گیا تھا)۔3. الیکشن کمیشن کے SIR (خصوصی تیز نظرثانی) کے بارے میں کیا خیال ہے؟SIR ووٹر فہرستوں کو صاف کرنے کے لیے ایک معمول کی کارروائی ہے – نقل شدہ اندراجات، فوت شدہ افراد، اور منتقل ہونے والوں کو حذف کرنا۔ یہ شہریت کی تصدیق کی مہم نہیں ہے۔ ECI نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف موجودہ قوانین کی بنیاد پر ووٹر کی اہلیت کی جانچ کرتے ہیں؛ وہ شہریت کا فیصلہ نہیں کرتے۔آسام کا NRC ایک بار کی کارروائی تھی جس کا حکم سپریم کورٹ نے غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے لیے دیا تھا۔ خارج ہونے والے 19 لاکھ افراد کو غیر ملکی ٹربیونلز میں اپیل کا موقع دیا گیا تھا۔مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس وقت کسی قومی NRC کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔حراستی مراکز بنیادی طور پر ان افراد کو رکھنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں جنہیں عدالتوں/ٹربیونلز نے "غیر ملکی" قرار دیا ہے – عام شہریوں کے لیے نہیں۔ آپ نے آئینی تبدیلیوں اور انتخابی ہیرا پھیری کے بارے میں سیاسی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ سیاسی بحث کا معاملہ ہے۔ تاہم، قانونی طور پر، حکومت بغیر کسی مناسب قانونی عمل کے من مانی طور پر ووٹر کو حذف یا شہریت سے محروم نہیں کر سکتی – اس سے آرٹیکل 21 (زندگی اور آزادی کا حق) اور فطری انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس طرح کے کسی بھی عمل کا عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔اپنی تمام دستاویزات – پیدائش کا سرٹیفکیٹ، اسکول کے ریکارڈ، والدین کے دستاویزات – کو محفوظ رکھیں۔اگر آپ سے کبھی شہریت ثابت کرنے کو کہا جائے تو آپ کو ثبوت پیش کرنے کا موقع ملے گا۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے حقوق کو خطرہ ہے تو آپ عدالت کا رخ کر سکتے ہیں۔مختصراً، آپ اپنی شہریت ثابت کر سکتے ہیں، لیکن کسی ایک جادوئی دستاویز سے نہیں۔ نظام ثبوت کے متعدد ٹکڑوں پر انحصار کرتا ہے، اور قانون اپیلیں اور تحفظات فراہم کرتا ہے۔مجھے امید ہے کہ یہ حقیقت پر مبنی وضاحت آپ کو صورتحال کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ براہِ کرم گھبرائیں نہیں – قانونی ڈھانچہ اتنا من مانی نہیں ہے جتنا کہ سوشل میڈیا کی وائرل پوسٹس سے لگتا ہے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

1 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments