Kolkata

کولکتہ شہر کے لائٹنگ سسٹم کو جدید بنانے کی سمت میں کولکتہ میونسپل کارپوریشن نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔

کولکتہ شہر کے لائٹنگ سسٹم کو جدید بنانے کی سمت میں کولکتہ میونسپل کارپوریشن نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔

کولکاتا18فروری :کارپوریشن نے 'سمارٹ لائٹنگ' کے نفاذ کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔کارپوریشن ذرائع کے مطابق، معاہدے کے تحت شہر کے مختلف بورو میں بجلی بچانے والی ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس لگائی جائیں گی اور ٹیکنالوجی پر مبنی سمارٹ مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ مرحلہ وار پرانی روایتی سوڈیم ویپر اور دیگر لائٹس کو ایل ای ڈی فکسچر سے بدلا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایک مرکزی کنٹرول اور مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے لائٹس کی خرابی کی فوری نشاندہی، بجلی کے استعمال کی نگرانی اور دیکھ بھال کا کام زیادہ موثر طریقے سے کیا جا سکے گا۔کارپوریشن کے ایک اہلکار نے بتایا، "ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے ساتھ یہ منصوبہ شہر کے بجلی کے اخراجات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کے باعث دیکھ بھال کا کام بہتر اور تیز تر ہوگا۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی اور آپریشنل اخراجات بھی کم ہوں گے۔یہ منصوبہ مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں شہر کی اہم سڑکوں، رہائشی علاقوں اور عوامی مقامات کو ترجیح دی جائے گی۔ فی الحال پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر کالی گھاٹ اور علی پور کے علاقوں میں سمارٹ لائٹنگ سسٹم شروع کیا جائے گا۔ ان دونوں علاقوں میں ابتدائی سروے اور بنیادی ڈھانچے کی تیاری مکمل ہونے کے بعد مکمل نفاذ کا کام شروع ہوگا۔اس 'سمارٹ لائٹنگ' سسٹم میں لائٹس کے جلنے اور بجھنے کا وقت خودکار طریقے سے طے ہوگا، سینسرز کے ذریعے ضرورت کے مطابق روشنی کو کم یا زیادہ کیا جا سکے گا، اور ایک انٹیلیجنٹ اربن ایکسچینج پلیٹ فارم کے ذریعے مرکزی کنٹرول کی سہولت ہوگی۔ کارپوریشن کے محکمہ روشنی کے افسر کا کہنا ہے کہ "یہ ٹیکنالوجی شہر کے لائٹنگ مینجمنٹ کو بالکل نئی جہت دے گی۔" منصوبے کے مالی بجٹ اور تکمیل کی مدت کا اعلان ابتدائی سروے کے بعد کیا جائے گا۔

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments