ریاستی حکومت کولکتہ کے پانچ سرکاری ہسپتالوں کی حالت بدلنے اور ان کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ ہسپتالوں کی سیکیورٹی کو بھی سخت کیا جا رہا ہے۔ معمولی سی بات پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کو روکنے کے لیے پولیس کی سخت نگرانی رہے گی۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر بھاری جرمانہ اور جیل بھی ہو سکتی ہے۔ ہسپتال کی سیکیورٹی اور بیرونی لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کولکتہ پولیس کی جانب سے ہسپتالوں کو خطوط بھیجے گئے ہیں۔ کولکتہ پولیس نے ایس ایس کے ایم، نیل رتن، آر جی کر، نیشنل میڈیکل اور کولکتہ میڈیکل کالج کی انتظامیہ کو خطوط جاری کیے ہیں۔ اب سے ہسپتالوں کی سیکیورٹی اور نگرانی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ہر ہسپتال میں وائرلیس سیٹ موجود ہوں گے۔ کسی بھی ہنگامے یا گڑبڑ کا اندیشہ ہونے پر انتظامیہ اس کے ذریعے فوری طور پر رابطہ کر سکے گی۔ ہر ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ اور پرنسپل کا مقامی تھانے، ڈویڑنل کنٹرول روم اور لال بازار کنٹرول روم سے براہِ راست رابطہ رہے گا۔ ہر ہسپتال میں فائر بجھانے والے آلات اور ہائیڈرینٹ تیار حالت میں رکھے جائیں گے۔ ہسپتال انتظامیہ کو محکمہ فائر بریگیڈ کے ساتھ بھی تال میل برقرار رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔ رات کے وقت پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی گارڈز کی مشترکہ ٹیمیں ہر ہسپتال میں گشت کریں گی۔’کولکتہ کے پانچ سرکاری ہسپتالوں میں سخت پولیس سیکیورٹی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر جیل اور جرمانہ‘ ریاستی حکومت کولکتہ کے پانچ سرکاری ہسپتالوں کی حالت بدلنے اور ان کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ ہسپتالوں کی سیکیورٹی کو بھی سخت کیا جا رہا ہے۔ معمولی سی بات پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کو روکنے کے لیے پولیس کی سخت نگرانی رہے گی۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر بھاری جرمانہ اور جیل بھی ہو سکتی ہے۔ ہسپتال کی سیکیورٹی اور بیرونی لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کولکتہ پولیس کی جانب سے ہسپتالوں کو خطوط بھیجے گئے ہیں۔ کولکتہ پولیس نے ایس ایس کے ایم، نیل رتن، آر جی کر، نیشنل میڈیکل اور کولکتہ میڈیکل کالج کی انتظامیہ کو خطوط جاری کیے ہیں۔ اب سے ہسپتالوں کی سیکیورٹی اور نگرانی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ہر ہسپتال میں وائرلیس سیٹ موجود ہوں گے۔ کسی بھی ہنگامے یا گڑبڑ کا اندیشہ ہونے پر انتظامیہ اس کے ذریعے فوری طور پر رابطہ کر سکے گی۔ ہر ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ اور پرنسپل کا مقامی تھانے، ڈویڑنل کنٹرول روم اور لال بازار کنٹرول روم سے براہِ راست رابطہ رہے گا۔ ہر ہسپتال میں فائر بجھانے والے آلات اور ہائیڈرینٹ تیار حالت میں رکھے جائیں گے۔ ہسپتال انتظامیہ کو محکمہ فائر بریگیڈ کے ساتھ بھی تال میل برقرار رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔ رات کے وقت پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی گارڈز کی مشترکہ ٹیمیں ہر ہسپتال میں گشت کریں گی۔
Source: PC- sangbadpratidin
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی