Kolkata

کولکاتا کارپوریشن کی نظر اب غیر قانونی تعمیرات کے بجائے ڈینگو اور خستہ حال عمارتوں کی دیکھ ریکھ پر

کولکاتا کارپوریشن کی نظر اب غیر قانونی تعمیرات کے بجائے ڈینگو اور خستہ حال عمارتوں کی دیکھ ریکھ پر

میونسپل ذرائع کے مطابق شہر میں تین ہزار سے زائد ایسی عمارتیں موجود ہیں جنہیں خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے کئی سو عمارتوں کو ”انتہائی خطرناک“ کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جہاں کسی بھی وقت دیوار، چھت یا عمارت کے حصے گرنے کا اندیشہ ہے۔ حکام کے مطابق جنوبی کولکاتا کے مقابلے میں شمالی کولکاتا میں خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ شمالی کولکاتا میں بڑی تعداد میں پرانی اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں، جن میں سے کئی برسوں سے مناسب مرمت اور دیکھ بھال سے محروم ہیں۔ برسات کے موسم میں مسلسل بارش اور نمی کی وجہ سے کمزور عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے میونسپل انتظامیہ ایسی عمارتوں کی فہرست کا جائزہ لے رہی ہے اور مالکان و مکینوں کو احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت دے رہی ہے۔ بعض مقامات پر لوگوں کو عمارت خالی کرنے یا ضروری مرمت کرانے کے نوٹس بھی دیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈینگی کی روک تھام کے لیے بھی خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔ میونسپل کارکن مختلف علاقوں میں جمع پانی کی نشاندہی، لاروا کش ادویات کے چھڑکاو، صفائی مہم اور عوامی بیداری کے پروگرام انجام دے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بارش کے موسم میں مچھروں کی افزائش تیزی سے بڑھتی ہے، اس لیے شہریوں کا تعاون بھی انتہائی ضروری ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ گھروں، چھتوں، بالکونیوں، گملوں اور آس پاس ایسی جگہوں پر پانی جمع نہ ہونے دیں جہاں مچھر پیدا ہو سکتے ہوں۔ میونسپل حکام کے مطابق خستہ حال عمارتوں کی نگرانی اور ڈینگی کے خلاف اقدامات برسات کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر جاری رہیں گے۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments