خلیل الرحمن اور ابو طاہر نے ایس آئی آر اور مسجدوں سے مائک ہٹانے پر شوبھندو ادھیکاری سے بات کی
وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کے ساتھ ملاقات میں ووٹر لسٹ کی خصوصی ترمیم (ایس آئی آر) میں مرشد آباد کے لوگوں کی ہراسانی پر این سی پی آئی کے ارکان پارلیمنٹ ابو طاہر خان اور خلیل الرحمن نے آواز اٹھائی۔ ہفتہ کو نبانّہ میں انہوں نے ملاقات کی۔ وہاں کیا کیا باتیں ہوئیں، باہر نکل کر صحافیوں کو بریفنگ دے کر بتایا۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ گفتگو میں ریاست کے مختلف علاقوں میں مسجدوں سے مائیک اتارنے کا معاملہ بھی اٹھا۔
شوبھیندو کے ساتھ ملاقات کے بعد مرشد آباد کے ترنمول چھوڑنے والے رکن پارلیمنٹ طاہر نے بتایا کہ ایس آئی آر سے متعلق متعدد شکایات انہوں نے وزیراعلیٰ کو بتائیں۔ وزیراعلیٰ نے مدد کا یقین دلایا۔ ان کے مطابق، "وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایس آئی آر میں 27 لاکھ نام کاٹے گئے ہیں۔ ان میں سے صرف سات لاکھ لوگوں نے درخواست دی ہے۔ بقیہ 20 لاکھ لوگوں نے کوئی درخواست نہیں دی۔ ہم نے کہا کہ یہ گاو¿ں دیہات کے لوگ ہیں۔ بہت سے لوگوں نے رسمی تعلیم حاصل نہیں کی، کاغذات نہیں سمجھتے۔ سب کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے چاہئیں۔ اس طرح قانونی ووٹرز کو بلاوجہ ہراساں کیا جا رہا ہے۔ 20 لاکھ لوگوں کی درخواست دینے کی مدت مزید بڑھانی ہوگی۔ انہیں درخواست دینے کا موقع دینا ہوگا۔ ہم ضرورت پڑنے پر مرشد آباد کے پانچ لاکھ لوگوں کے لیے عدالت جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہماری درخواست کا جواب دیا اور بتایا کہ حکومت کی طرف سے جو کچھ کرنا ہے وہ کریں گے۔" 27 لاکھ لوگوں کو تمام سماجی سہولیات دینے کا مطالبہ خلیل الرحمن وغیرہ کا۔ تاہم شوبھیندو نے جمعہ کو بتایا کہ جن لوگوں نے ٹریبونل میں درخواست دی ہے، وہی سرکاری سماجی منصوبوں کے فوائد حاصل کریں گے۔ باقیوں کو نہیں۔
بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد مختلف جگہوں پر مسجدوں کے مائیک اتارے جا رہے ہیں، یہ الزام ہے۔ اس بارے میں بھی ہفتہ کو وزیراعلیٰ کی توجہ مبذول کروائی دو اقلیتی ارکان پارلیمنٹ نے۔ طاہر نے کہا، "مائیک کے سلسلے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ تکلیف دہ ہے۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ ہم سرکاری رہنما اصولوں پر عمل کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن نماز پڑھنے کے وقت کوئی مسئلہ نہ ہو، حکومت کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے صبر کے ساتھ ہماری باتیں سنیں۔
ریاست کے مختلف حصوں میں چن چن کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، طاہر نے یہ الزام لگایا۔ پولیس کے کام پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کی۔ ان کے مطابق، "چن چن کر مسلمانوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ ہم نے کہا کہ ہندو-مسلمان سب کے لیے قانون یکساں ہو۔ پولیس مبالغہ آمیز طریقے سے کام کر رہی ہے۔ بغیر وقت دیے مائیک اتارے جا رہے ہیں۔ یہ کیسا سلوک ہے؟ وزیراعلیٰ نے ہماری درخواست کا جواب دیا۔" دو دن قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کر کے بھی یہی درخواست کی تھی، طاہر نے بتایا۔
Source: Admin
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
10 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
10 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
10 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
10 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
11 months ago
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
11 months ago
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی
4 months ago
الیکشن کمیشن نے ریاست کے چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری کو ہٹا دیا
4 months ago
اس بار بھی بنگال میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں! ممتا بنرجی کی پھر سے ہو گی جیت
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments