Kolkata

جس کا کوئی رہنما نہیں تھا راتوں رات این ڈی اے کی دوسری سب سے بڑی پارٹی بن گئی

جس کا کوئی رہنما نہیں تھا راتوں رات این ڈی اے کی دوسری سب سے بڑی پارٹی بن گئی

بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار دو سال پہلے الیکشن دفتر میں رجسٹر ہوئی ایک نامعلوم سی پارٹی، جس کے پاس نہ کوئی ایم ایل اے ہے نہ سانس ممبر، یہاں تک کہ مقامی باڈی کا کوئی منتخب رکن بھی نہیں؛ اب ملک کی حکمران اتحاد-این ڈی اے کی دوسری سب سے بڑی پارٹی بن جائے گی! پورے 20 سانس ممبران کی پارٹی! ممتا بنرجی کی بنائی ہوئی ٹی ایم سی سے نکل کر یہ سب این سی پی آئی کے نیشنلسٹ بن گئے! پارٹی کے صدر کوئی اتیہ کنڈو صاحب ہیں! این سی پی آئی بنانے والوں نے پارٹی کا نام بھی سوچ سمجھ کر رکھا ہوگا: 'نیشنلسٹ سِٹیزنز پارٹی آف انڈیا!' ٹی ایم سی کے نام نہاد باغی سانس ممبران نے لوک سبھا اسپیکر سے مل کر اپنی درخواست دے دی ہے کہ انہیں نئی پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے طور پر تسلیم کر کے علیحدہ نشستیں مختص کی جائیں!سودیپ بندوپادھیائے، شتابدی رائے، کاکلی گھوش، یوسف پٹھان اور سایونی گھوش جیسے نامور سیاستداں اب ممتا بنرجی کی بجائے کنڈو صاحب کی قیادت میں ملک، خاص طور پر بنگال کی عوام کی خدمت کریں گے! انہیں ضرور اس کا 'میوہ' ملے گا!بھاجپا اور این ڈی اے حکومت کی اعلیٰ قیادت، خاص طور پر وزیر اعظم مودی نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس بار پارلیمنٹ سے 131واں آئینی ترمیم (حد بندی اور خواتین ریزرویشن وغیرہ کا متنازعہ بل) کلئیر نہیں ہو سکا۔ لیکن ہم نے امید نہیں چھوڑی ہے۔ وہ ہمارا عزم ہے اور اسے ہم ضرور پورا کریں گے! دیکھیے، مہاراشٹر میں آگے کیا ہوتا ہے۔ کیا پتہ، جنوب میں بھی کچھ ہو جائے! سنا ہے، وہاں بھی کوشش ہو رہی ہے! 'جمہوریت' بیچاری کیا کرے گی جب کسی معاشرے میں 'لوک' کو ہی 'ینتر' میں تبدیل کیا جا رہا ہو! لوک 'ینتروت' ہو جائے گا تو معاشرے کا بڑھتا ہوا اندھیرا کون مٹائے گا؟ معاشرے میں جندہ دلی کہاں سے آئے گی؟ایسے دور میں معاشرے اور لوک کے درمیان چھایا ہوا اندھیرا محض کچھ جگنووں سے ختم نہیں ہوگا، اندھیرے میں راستہ دکھانے والے وہاں آسمانی چراغوں (دیودار) کی ضرورت ہوگی!

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments