Kolkata

جس گھر میں امیت شاہ نے کھانا کھایا تھا اس کا نام ووٹر لسٹ سے غائب

جس گھر میں امیت شاہ نے کھانا کھایا تھا اس کا نام ووٹر لسٹ سے غائب

نیوٹاون کے 'متوا گڑھ' میں 14 ہزار ووٹروں کے نام خارج ہونے پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ 2020 میں جس گھر میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دوپہر کا کھانا کھایا تھا، اسی گھر کے سربراہ اور متوا لیڈر نوین بسواس نے اب اسے "انتقامی ووٹ" کا نام دے دیا ہے۔ نومبر 2020 میں امت شاہ نے راجرہاٹ-نیوٹاون کے جیوتینگر علاقے میں نوین بسواس کے گھر جا کر دوپہر کا کھانا کھایا تھا۔ اس وقت انہوں نے متوا برادری کو شہریت اور بی جے پی حکومت کی حمایت کا بھرپور یقین دلایا تھا۔الیکشن کمیشن کی 'اسپیشل انٹینسیو ریویڑن' کے بعد اس علاقے سے تقریباً 14 ہزار متوا ووٹروں کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے نے برادری میں شدید غصہ، خوف اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ آل انڈیا متوا مہاسنگھ کے کارگزار صدر نوین بسواس، جن کے گھر امت شاہ نے کھانا کھایا تھا، اب بی جے پی سے مایوس نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے متواوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور انہیں 'بے شہری' بننے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 29 اپریل کو متوا برادری اس "وشواس گھات" (اعتماد کو ٹھیس پہنچانے) کا بدلہ ووٹ کے ذریعے لے گی۔راجرہاٹ-نیوٹاون اسمبلی حلقے میں تقریباً 40 ہزار متوا ووٹر ہیں، جو کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ روایتی طور پر یہ ووٹ بی جے پی کو ملتے رہے ہیں، لیکن نام خارج ہونے کے بعد اب یہ مساوات بدلتی نظر آ رہی ہے۔بی جے پی امیدوار پیوش کنوریا نے یقین دلایا ہے کہ وہ جیتنے کے بعد شہریت کا مسئلہ حل کریں گے، جبکہ ترنمول کے تاپس چٹوپادھیائے نے اسے بی جے پی کی "تقسیم کی سیاست" قرار دیا ہے۔متوا برادری کا اب یہ سوال ہے کہ جس حکومت نے شہریت کا وعدہ کیا تھا، اس کے دور میں وہ ووٹر لسٹ سے ہی کیوں باہر ہو گئے؟ 29 اپریل کی پولنگ میں اس کا فیصلہ 'انتقامی ووٹ' کے ذریعے ہونے کی توقع ہے۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments