Kolkata

’جادو پور یونیورسٹی بدتہذیبی بنانے کی فیکٹری ہے‘، مودی کے لہجے میں دلیپ گھوش کا حملہ

’جادو پور یونیورسٹی بدتہذیبی بنانے کی فیکٹری ہے‘، مودی کے لہجے میں دلیپ گھوش کا حملہ

اسمبلی انتخابات کے درمیان جادو پور یونیورسٹی کو لے کر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ نریندر مودی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش نے بھی اس عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی کے طلبہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہفتہ کی صبح ایکو پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سخت حملہ کیا۔ دلیپ گھوش نے کہا، "اگرچہ جادو پور اچھے بچوں کے پڑھنے کی جگہ تھی، لیکن اب یہ ملک دشمن سرگرمیوں کا اڈہ بن چکی ہے۔ وہاں بدتہذیبی پیدا کرنے کی فیکٹری کھول دی گئی ہے۔ بابول سپریو یا گورنر کے ساتھ جو سلوک وہاں کیا گیا، وہ سب نے دیکھا۔ ہم نے وہاں 'سرجیکل اسٹرائیک' کی تھی، اسے کوئی نہ بھولے۔" اس تنازع کا آغاز جمعہ کو ہوا جب باروئی پور میں انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم مودی نے دعویٰ کیا کہ جادو پور یونیورسٹی کا نام کبھی پوری دنیا میں احترام سے لیا جاتا تھا اور اس کی بنیاد 'قوم پرستی' پر تھی۔لیکن آج وہاں کی دیواروں پر ملک دشمن نعرے لکھے جا رہے ہیں اور طلبہ کو پڑھائی کے بجائے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔مودی نے ترنمول حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، "جو حکومت اپنے صوبے کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے کی حفاظت نہیں کر سکتی، وہ بنگال کی نوجوان نسل کے مستقبل کی حفاظت کیا کرے گی؟"ہاوڑہ کے جلسے سے ممتا بنرجی نے وزیراعظم کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا:"جادو پور یونیورسٹی ہمارا فخر ہے اور ہمارے نوجوان ہمارا وقار ہیں۔ جادو پور ملک میں نمبر ون ہے۔"انہوں نے مودی کے ’انارکی‘ والے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ طلبہ اور نوجوانوں کو ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے۔دلیپ گھوش اور مودی کے ان بیانات نے جادو پور یونیورسٹی کو ایک بار پھر ریاست کی انتخابی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں ایک طرف 'قوم پرستی' اور دوسری طرف 'احتجاجی جمہوریت' کے نظریات کا ٹکراو نظر آ رہا ہے۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments