Kolkata

جادو پور اسٹیشن کے باہر ابھی ہاکرزبے دخلی نہیں ہو رہے! سی پی ایم لیڈر سروجن بھٹاچاریہ کا دعویٰ

جادو پور اسٹیشن کے باہر ابھی ہاکرزبے دخلی نہیں ہو رہے! سی پی ایم لیڈر سروجن بھٹاچاریہ کا دعویٰ

بے دخلی کے خدشے کے تحت منگل کی رات جادو پور اسٹیشن پر بائیں بازو کے رہنماوں اور کارکنوں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ ان کا الزام تھا کہ اسٹیشن کے باہر بلڈوزر کھڑے تھے۔ کسی بھی وقت دکانیں گرائی جا سکتی ہیں۔ اسے روکنے کے لیے سروجن بھٹاچاریہ وغیرہ نے رات بیدار رہنے کا اعلان کیا تھا۔ دیر رات سروجن نے دعویٰ کیا کہ جادو پور میں ابھی ہاکروں کو بے دخل نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "کچھ درخواستیں ہیں جن پر تاجروں کے ساتھ بات چیت کرنی ہے۔ ہمیں تین ہفتے کا وقت ملا ہے۔ جس قانونی دستاویز پر لڑائی ہوئی ہے، وہ معاملہ ہمیں اس مدت میں حکام کو بتانا ہے۔ ہمیں ان کے ساتھ تعاون بھی کرنا ہے۔" بائیں بازو کے رہنماوں اور کارکنوں کو خدشہ تھا کہ رات ہی رات جادو پور اسٹیشن پر بے دخلی کی مہم چلائی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل ہاوڑہ، سیالداہ اسٹیشن احاطے سے غیر قانونی ہاکروں کی بے دخلی شروع کی گئی ہے۔ کبھی کبھار غیر قانونی تعمیرات گرانے کے لیے بلڈوزر بھی چلائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، سیالداہ، ہاوڑہ اسٹیشن احاطے سے تقریباً 500 عارضی جھونپڑیاں اور چھوٹی دکانیں بے دخل کی گئی ہیں۔ صرف اسٹیشن احاطہ ہی نہیں، ہاوڑہ کے مختلف علاقوں میں فلک بوس عمارتوں کی غیر قانونی تعمیرات گرانے کے لیے بھی بلڈوزر چلائے گئے۔ راتوں رات اس بے دخلی کی مہم میں متعلقہ تاجر مصیبت میں پڑ گئے ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ صبح آ کر دیکھا تو ان کی دکان موجود نہیں تھی۔ کوئی بتاتا ہے کہ بے دخلی کی خبر ملتے ہی رات ہی رات موقع پر پہنچ گئے۔ تقریباً سبھی کی زبان پر ایک ہی الزام تھا کہ ریلویز نے اچانک بے دخلی کی مہم چلائی۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments