Kolkata

جس مندر کا پرساد نان ویج، وہاں وزیراعظم مودی نے ٹیکا ماتھا، ٹی ایم سی کو کرارا جواب

جس مندر کا پرساد نان ویج، وہاں وزیراعظم مودی نے ٹیکا ماتھا، ٹی ایم سی کو کرارا جواب

وزیرِ اعظم نریندر مودی شمالی کولکاتہ کے اس منفرد مندر ‘ٹھنٹھانیا کالی باڑی’ پہنچے، جہاں رام کرشن پرم ہنس نے ماں کو نان ویج پرساد چڑھانے کی رسم شروع کی تھی۔ 300 سال قدیم اس جاگرت دربار میں ماتھا ٹیک کر وزیرِ اعظم نے بنگال کی قدیم اور متنوع روحانی ثقافت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کولکاتہ کی گلیوں میں جب شَنکھوں کی گونج اور ‘جے شری رام’ کے نعرے گونجے تو اس کی پہلی آہٹ ایک 300 سال پرانی دہلیز پر ٹھہر گئی۔ شمالی کولکاتہ کے تاریخی روڈ شو سے پہلے وزیراعظم نریندر مودی نے اس دربار میں سر جھکایا جہاں کبھی رام کرشن پرم ہنس کی عقیدت کے نغمے گونجتے تھے۔ یہ دربار ٹھنٹھانیا کالی باڑی کا ہے، جہاں کی فضا میں آج بھی 1703 کی تاریخ سانس لیتی ہے۔ اس مندر کی سب سے انوکھی بات وہ روایت ہے جس نے صدیوں سے سخت عقائد کو چیلنج کیا ہے۔ یہاں ماں کو ‘داب - چِنگڑی’ کا بھوجن چڑھایا جاتا ہے۔ عقیدت، روحانیت اور بنگال کی قدیم شناخت کے اس مرکز سے وزیراعظم مودی نے اپنے انتخابی شَنکھ ناد کو ایک روحانی لمس دیا۔ ٹھنٹھانیا کالی باڑی ہندوستان کے ان چند کالی مندروں میں سے ایک ہے جہاں دیوی کو نان ویج پرساد پیش کیا جاتا ہے۔ اس انوکھی روایت کے پیچھے ایک خاص کہانی ہے ۔ ماں کو نان ویج پرساد چڑھانے کی رسم خود رام کرشن پرم ہنس نے شروع کی تھی۔ انہوں نے برہمانند کیشو چندر سین کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے ماں سدھیشوری کو ‘داب-چِنگڑی’ (ناریل میں پکا ہوا جھینگا) کا بھوگ لگایا تھا۔ تب سے آج تک یہ روایت جاری ہے۔ جب رام کرشن دیو خود بیمار پڑے تھے تو ان کے پیروکاروں نے اسی مندر میں ان کی صحت کے لیے دعا کی اور دیوی کو نان ویج پرساد پیش کیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم مودی ایسے وقت میں اس مندر پہنچے ہیں جب مغربی بنگال میں نان ویج کو لے کر سیاسی گھمسان جاری ہے ۔ وزیراعلی ممتا بنرجی سمت ترنمول کانگریس کے لیڈروں نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اگر اقتدار میں آئی تو ریاست کی کھانے پینے کی ثقافت میں مداخلت کر سکتی ہے۔ انہوں نے این ڈی اے کی حکمرانی والی کچھ ریاستوں جیسے بہار اور گجرات میں بعض تہواروں کے دوران مچھلی اور گوشت کی فروخت پر پابندیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ بنرجی نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات بنگال کی ثقافتی شناخت کو سمجھنے کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

Source: scoial media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments