Kolkata

گرفتاری کے 6گھنٹے بعد ہی سابق کونسلر شمس اقبال ضمانت پر رہا

گرفتاری کے 6گھنٹے بعد ہی سابق کونسلر شمس اقبال ضمانت پر رہا

کلکتہ،29جون (مشرق نیوز سروس) جبری رقم وصولی (تولابازی) کے الزام میں کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے سابق کونسلر شمس اقبال کو گرفتاری کے صرف چھ گھنٹوں کے اندرہی ایک ہزار روپئے کے مچلکے پر ضمانت مل گئی۔ آج صبح تقریباً8بجے انہیں گرفتار کیا گیا تھا لےکن شکایت کنندہ کی جانب سے مقدمہ واپس لئے جانے کے باعث عدالت نے انہیں ضمانت دے دی، جس پر سرکاری وکیل کےلئے بھی اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ فریقین کے درمیان باہمی مفاہمت کے بعد مقدمہ واپس لیا گیا۔ان کے خلاف 70لاکھ روپئے بطور جبری رقم وصولی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جس کی بنیاد پر گارڈین ریچ تھانہ کی پولس کے ذریعہ آج صبح انہیں گرفتار کیا گیا، ان کے خلاف اسلحہ قانون سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جن میں غیر ضمانتی دفعات بھی شامل تھیں۔ مٹیابرج کے تاجر محمد شاداب نے شکایت درج کرائی تھی کہ جون 2023 میں شمس اقبال اور ان کے ساتھیوں نے ان سے تقریباً 70 لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا تھا۔ شکایت کے مطابق رقم نہ دینے کی صورت میں کاروبار بند کرانے اور اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ مزید الزام تھا کہ رقم وصول کرنے کے بعد بھی انہیں مسلسل دھمکیاں دی جاتی رہیں۔اس معاملے میں شمس اقبال عرف انیل، محمد فراز عرف ب±ن اور فیروز قریشی عرف چوری فیروز کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ۔ اسی شکایت کی بنیاد پر گارڈن ریچ تھانہ کی پولس نے آج صبح شمس اقبال عرف انیل کو گرفتار کیاتھا تاہم جب مقدمہ علی پور عدالت میں پیش ہوا تو شکایت کنندہ نے اپنی شکایت واپس لے لی، جس کے بعد عدالت نے شمس اقبال کو ضمانت دے دی۔ دوسری جانب ان کی گرفتاری کے بعد ایک بار پھر ان کی متنازع اور پ±رتعیش زندگی عوامی اور سیاسی حلقوں میں زیر بحث بنگئی ہے ۔شمس اقبال کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 134 کے کونسلر رہ چکے ہیں۔ انہیں سابق میئر فرہاد حکیم کا نہایت قریبی مانا جاتا تھا اور وہ انہیں ’بابی انکل‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ سوشل میڈیا پر فرہاد حکیم اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ شمس کی متعدد تصاویر بھی موجود ہیں۔ ایک مرتبہ وہ کروڑوں روپئے مالیت کی لگژری کار میں میونسپل کارپوریشن پہنچے تھے، جس نے خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ 2024 میں گارڈن ریچ میں ایک غیر قانونی کثیر منزلہ عمارت گرنے سے 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ الزام تھا کہ عمارت غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی اور یہ عمارت شمس اقبال کے وارڈ نمبر 134 میں واقع تھی۔ اس غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں شمس کا نام بھی سامنے آیا تھا۔اس عمارت کے پروموٹر واسیم کے ساتھ شمس اقبال کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ الزام لگایا گیا کہ اس وقت سابق میئر فرہاد حکیم نے شمس کو سیاسی تحفظ فراہم کیا تھا۔حال ہی میں تاراتلا میں زیرِ تعمیر ایک گودام گرنے کے واقعے میں بھی شمس اقبال کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے۔ یہ شکایت بھارتیہ جنتا مزدور دل کے ایک رہنما نے درج کرائی ہے۔ گارڈن ریچ حادثے کے بعد ا±س وقت کے اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے سوشل میڈیا پر شمس اقبال کے خلاف کئی الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے لکھا تھا کہ شمس اقبال غیر قانونی تعمیرات کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ وہ چمکتی ہوئی سرخ رنگ کی لگژری کار میں میونسپل کارپوریشن آئے تھے۔ ان کی یہ شاہانہ زندگی ان لوگوں کی جانوں کی قیمت پر قائم ہوئی ہے جو عمارت کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہوئے ۔شوبھندو نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ شمس نے پانچ کروڑ روپئے سے زائد مالیت کی بینٹلی خریدی ہے اور سوال اٹھایا تھا کہ ایک عام کونسلر کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی؟ تاہم ریاست میں سیاسی تبدیلی کے بعد شمس اقبال کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی، جس میں وہ شوبھندو ادھیکاری کے پےر چھوتے ہوئے نظر آئے۔ کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں شمس اقبال کی شاہانہ طرزِ زندگی کافی عرصے سے موضوعِ گفتگو رہی ہے۔2021 کے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے گارڈن ریچ سے 98 فیصد ووٹ حاصل کر کے ریکارڈ کامیابی حاصل کی تھی، جو تمام کونسلروں میں سب سے زیادہ تھی۔ اس کامیابی کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ انہیں عوام کی دعاو¿ں اور حمایت نے کامیاب بنایا۔اسی دوران وہ ایک سرخ رنگ کی ایسٹن مارٹن کار میں میونسپل کارپوریشن پہنچے تھے، جس کی قیمت کروڑوں روپئے بتائی جاتی ہے۔ ان کی گاڑی دیکھنے کےلئے میونسپل دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم لگ گیا تھا، جبکہ کئی ملازمین اور کونسلر بھی گاڑی دیکھنے کےلئے جمع ہو گئے تھے۔ شمس اقبال کو فلمی دنیا کی شخصیات کے ساتھ میل جول رکھنا بھی پسند تھا۔ سوشل میڈیا پر ان کی ٹالی ووڈ کے متعدد معروف اداکاروں اور اداکاراو¿ں کے ساتھ تصاویر موجود ہیں۔ انہوں نے بالی ووڈ اداکارہ تمنا بھاٹیہ کے ساتھ بھی تصاویر کھنچوائی تھیں۔ ان کی روزمرہ زندگی میں بھی عیش و عشرت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔شمس اقبال کے والد منّا اقبال بھی علاقے کے معروف سیاسی رہنما اور کونسلر رہ چکے ہیں۔ گارڈن ریچ میں ایک سب انسپکٹر کے قتل مقدمے میں ان کا نام بھی سامنے آیا تھا۔شمس اقبال پر بندرگاہ کے علاقے میں زبردستی زمین اپنے نام کروانے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔تقریباً دس سال قبل واجد علی شاہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے الزام لگایا تھا کہ ان سے تقریباً چھ کٹھہ زمین زبردستی اپنے نام کروائی گئی، جس کے سلسلے میں انہوں نے ا±س وقت کے ڈی سی (پورٹ ) سے شکایت بھی کی تھی۔2021 کے بلدیاتی انتخابات کے دوران جمع کرائے گئے اپنے حلف نامے میں شمس اقبال نے اپنی منقولہ جائیداد کی مالیت 5 لاکھ 68 ہزار 376 روپئے ظاہر کی تھی۔اسی حلف نامے کے مطابق ان کی اہلیہ کے نام 75 لاکھ روپئے کی منقولہ جائیداد درج تھی۔ مزید یہ کہ 2017 میں انہوں نے 47 لاکھ روپئے مالیت کی ایک مرسڈیز گاڑی بھی خریدی تھی، جس کا ذکر بھی انتخابی حلف نامے میں موجود ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments